گیس ٹیک کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کانفرنس میں7 ہزار مندوبین، ایک ہزار نمائش کنندگان اور 150 ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ کانفرنس اور نمائش کے دوران 50 ہزار شرکاء کی آمد متوقع ہے۔

بنکاک میں نجی ٹی وی ’جیو‘ سے گفتگو کرتے ہوئے یو جی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر غیاث عبداللہ پراچہ  نےکہا کہ حکومت کی جانب سے نجی شعبے کو 35 فیصد گیس مختص کرنےکی پالیسی گیس سیکٹر میں ڈی ریگولیشن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔کمپنی غیر ملکی سرمایہ کاری، براہ راست کاروباری شراکت داریوں اور نجی گیس تقسیم کاری نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں کمی لانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت گیس کی تقسیم سرکاری کمپنیوں ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے پاس ہے، تاہم یو جی ڈی سی امریکی اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں کے اشتراک سے نجی نیٹ ورکس قائم کرنے کی خواہاں ہے۔

غیاث پراچہ کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے نیٹ ورکس سے گیس نقصانات کم ہوں گے اور صارفین کو سستی گیس ملے گی۔ اس کے علاوہ نجی سرمایہ کاری سے حکومت کو ٹیکس اور ٹرانزٹ فیس کی مد میں آمدن حاصل ہوگی جبکہ توانائی کی لاگت میں بھی کمی آئےگی۔

تھائی لینڈ میں پاکستان کی سفیر سعدیہ قاضی نے یو جی ڈی سی کے اسٹال کا دورہ کیا اور گیس ٹیک میں پاکستانی کمپنی کی شرکت کو عالمی سطح پر پاکستانی کاروباری شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔