جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت کی، جو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔

سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے تحریری حکم کے باوجود گزشتہ منگل کو انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او اعزاز نے عدالتی حکم ماننے سے انکار کیا، جس پر عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ان کے ساتھ بھیجا جائے۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر سلمان اکرم راجہ جیل میں ملاقات نہیں کر سکتے تو وہ ٹوئٹر ایکس کیس میں عدالت کی معاونت کیسے کریں گے؟

جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کیا اور استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کیوں نہیں کروائی گئی؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف دیا کہ وہ متعلقہ حکام کو دوبارہ آگاہ کر دیں گے۔

مزیدپڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈ لاک ختم، بل کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی


عدالت نے ہدایت دی کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سلمان اکرم راجہ کی جیل ملاقات کا معاملہ دیکھیں۔ بعد ازاں، عدالت نے توہینِ عدالت کی درخواست پر تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ کیس کی آئندہ تاریخ تحریری حکمنامے میں جاری کی جائے گی۔