بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی فضائی کارروائیاں ایران کے مختلف صوبوں تک پھیل گئی ہیں، جن میں ہرمزگان، بوشہر، فارس، یزد، اہواز، قشم جزیرہ، سیریک اور دیگر حساس علاقے شامل ہیں۔

امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایران کے نگرانی کے مراکز، اسلحہ ذخیرہ گاہوں، زیرزمین فوجی تنصیبات، لاجسٹک نیٹ ورک اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی عسکری طاقت کو محدود کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت، بحرین اور دیگر خلیجی علاقوں میں موجود امریکی اتحادی فوجی مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا،  مطابق کویت میں امریکی فوج کے معاون مرکز کیمپ عریفجان، علی السالم ایئر بیس پر نصب ریڈار نظام، بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور امریکی انٹیلی جنس سے متعلق ایک ڈیٹا سینٹر کو ہدف بنایا گیا۔

تاہم ان تمام ایرانی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آسکی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی محدود معلومات جاری کی گئی ہیں۔

کویت کی وزارت بجلی، پانی اور قابلِ تجدید توانائی نے تصدیق کی ہے کہ حملوں کے دوران ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس کے باعث بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ حکام کے مطابق ممکنہ خطرات کے پیش نظر کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت بھی کچھ وقت کے لیے معطل رہی، تاہم بعد ازاں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فضائی آپریشن بتدریج بحال کیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکی بحری بیڑا ہمارے ریڈار پر ہے، کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتے ہیں، پاسدارانِ انقلاب

علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں کے باعث کویت، بحرین، قطر اور اردن میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔ اردن کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے کئی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا، جبکہ قطر میں راکٹ کے ملبے سے ایک بچے کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ سعودی عرب نے بھی الخرج اور ینبع سمیت بعض علاقوں میں جاری حفاظتی الرٹ بعد ازاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں کم از کم تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ حملوں سے دو پل، ایک سرنگ اور متعدد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ جاسک کے علاقے میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپ متاثر ہونے کے باعث تقریباً بیس دیہات کے لگ بھگ دس ہزار افراد کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بوشہر کے قریب ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو مار گرایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی ڈرون ڈپو اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، آبنائے ہرمز میں امریکی حمایت یافتہ چار آئل ٹینکروں کی نقل و حرکت کو میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے ذریعے روکا گیا، جبکہ دو ٹینکروں میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ان دعوؤں کی بھی آزادانہ سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی کے دوران چار تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا، ایک جہاز کو غیر فعال کیا گیا جبکہ ایک پر کارروائی بھی کی گئی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں بحری سلامتی کو برقرار رکھنا اور ممکنہ خطرات کو روکنا تھا۔

اس سے قبل امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ ایران نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے صرف ان بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کی جو اس کی نیوی گیشن ہدایات کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے، اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مذاکرات اور جنگ ساتھ چلنے کی پالیسی ختم، امریکا نے مزید جارحیت اپنائی تو ہم بھی طبل جنگ بجا دیں گے: ایرانی کمانڈر

دریں اثنا سیٹلائٹ تصاویر میں بوشہر کے جوہری تنصیب کے کمپلیکس میں نئے نقصانات کے آثار بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ایران نے ان نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حساس جوہری تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا تو خطے میں سلامتی کے خدشات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور خلیجی ممالک میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

واخح رہے کہ امریکی حملوں کا دائرہ ایران کے اندرونی علاقوں تک وسیع ہونا اور ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں جوابی کارروائیوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،  اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی کارروائیوں، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضا