پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کرنے والے شخص کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو شیئر کرنے پر شہری نے سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ مریم نواز سے سوال کیا کہ اسکوٹی والی بچی کو مارنے والے کی ایسی ویڈیو کا انتظار ہے۔
اس پر مریم نواز نے جواب میں کہا کہ میں نے خود اُس بچی سے بات کی، بچی سے کہا جتنی بار اُس شخص نے تھپڑ مارے، وہ بھی اسے اتنی ہی بار تھپڑ مارے۔
انہوں نے بتایا کہ بچی نے کہا اُس کے لیے یہ کافی ہے کہ حکومت نے تحفظ فراہم کیا اور انصاف اُس کے ساتھ ہے۔
دوسری جانب لاہور، مزنگ کے علاقے میں سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد کے ملزم کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ عدالت نے ملزم کی ضمانت ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کردیا جائے۔
پولیس نے ضلع کچہری میں عدالت سے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق تشدد کا واقعہ موٹرسائیکل سوار کو بروقت راستہ نہ دینے پر پیش آیا، جس پر ملزم نے کچھ دور آگے آ کر لڑکی کو روکا اور پھر اسے مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔
لڑکی سکوٹی سے گر گئی، جس کے بعد ملزم زمین پر گری۔ موقع پر موجود افراد نے اس ملزم کو روکا، جس کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوگیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مقامی عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کرنے والے شخص کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی، جس میں پولیس حراست میں موجود شخص کو پیٹرول پمپ ملازم کی جانب سے زور دار تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مریم نواز نے لکھا کہ یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو غریبوں کو خود سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کرکے بچ نکلیں گے۔







