پولیس نے ملزم سعادت انیس کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے راضی نامے کی بنیاد پر پولیس کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے اور رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیا تھا اور فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے، اس لیے وہ کیس میں مزید کارروائی نہیں چاہتے۔
واضح رہے کہ پیٹرول پمپ کے ملازم پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے میں ملوث ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی کو بھی دولت اور طاقت کے بل پر قانون سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ ان لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جو غریب افراد کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور دولت و طاقت کی بنیاد پر خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ بطور وزیراعلیٰ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں، خواہ ان پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جبکہ دولت، اثر و رسوخ اور سیاسی تعلقات کسی کو قانون کے سامنے جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا تھا کہ انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی مظلوم کو صرف اس لیے انصاف کے حصول کی جدوجہد میں تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا کہ اس کے مقابلے میں کوئی بااثر شخص موجود ہے۔







