انہوں نے کہا ہے کہ انڈین پشت پناہی میں افغان سرزمین سے جاری حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں کتنی ہی مذمت کی جائے کم ہے، نہتے معصوم پاکستانیوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

شہباز  شریف نے کہا ہے کہ انڈین اسپانسرڈ دہشت گرد حملے کی میں سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، پوری قوم کی ہمدردیاں شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

وزیرِاعظم پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان سے سرگرم خوارج نے وانا میں بھی معصوم بچوں پر حملہ کیا اور اس طرح کی کارروائیاں خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ آخرِ کار دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک ہم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

مزیدپڑھیں: اگرافغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے، شہباز شریف

وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا کی مداخلت اور پراکسی وار پالیسیوں کی مذمت کرے اور کہا کہ وانا اور اسلام آباد کے حملے انڈین ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہیں۔