اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری نے شہر بھر کی شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد کرینیں اور لفٹر مختلف مقامات پر متحرک ہوگئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ شام تک کسی بھی شاہراہ پر کنٹینر موجود نہ ہو۔ انتظامیہ کو تھانوں کے باہر رکھے کنٹینرز فوری طور پر چھوڑنے اور ان سے متعلق دستاویزات ڈرائیوروں کے حوالے کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سکیورٹی اقدامات کے تحت مختلف شاہراہوں، داخلی راستوں اور اہم مقامات پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کردیے گئے تھے۔
ان اقدامات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ سکیورٹی انتظامات کے دوران موبائل فون سروس کی بندش کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
کنٹینرز ہٹانے کے کام کا آغاز شاہراہ دستور سے کیا گیا، جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی یہ عمل شروع ہوگیا۔ کنٹینرز کی واپسی سے ان کے مالکان اور ڈرائیوروں کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تاہم ریڈ زون میں تاحال کنٹینرز موجود ہیں اور وہاں سکیورٹی برقرار رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی گئی۔ اس دوران وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کرتے ہوئے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور دیگر مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیے تھے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں بھی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی اہم سڑکوں کو شپنگ کنٹینرز کے ذریعے بند کردیا گیا ہے، کئی مقامات پر پبلک ٹرانسپورٹ سروسز معطل ہیں، جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز میں خلل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز صوبائی دارالحکومت میں سکیورٹی کی سخت پابندیاں دیکھنے میں آئیں۔ اہم چوراہوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کی جانب جانے والی سڑکوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت موبائل فون سگنلز دستیاب نہیں تھے، جب کہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کے اسٹیشن بند رہے۔ گرینڈ ٹرنک روڈ کو فردوس چوک پر شپنگ کنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا۔ پیدل چلنے والوں کو گزرنے کی اجازت تھی، تاہم دیگر آمدورفت محدود کردی گئی۔
ہسپتال روڈ اور فردوس چوک، جسے ملک سعد شہید چوک بھی کہا جاتا ہے، کے درمیان سڑک پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ قریبی کئی سڑکوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث مسافروں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔
بالا حصار قلعے، جہاں فرنٹیئر کور نارتھ کا ہیڈکوارٹر واقع ہے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے اطراف بھی سکیورٹی سخت کردی گئی۔ شہر کے ریڈ زون سے گزرنے والی اہم شاہراہ خیبر روڈ کی جانب جانے والے راستے کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر بند کردیے گئے۔
ڈان کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کئی راستوں پر پیدل چلنے والوں کو بھی آگے بڑھنے سے روکا۔ ان میں سینٹرل جیل اور ایم پی اے ہاسٹل کے قریب واقع سڑکیں بھی شامل تھیں۔ بعض مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوبہ بازار کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی۔
سول سیکریٹریٹ، جہاں صوبائی حکومت کے اہم دفاتر واقع ہیں، بڑی حد تک ویران دکھائی دیا، جبکہ چیف سیکریٹری کے دفتر کے باہر صرف چند گاڑیاں کھڑی تھیں۔
صاحبزادہ عبدالقیوم روڈ پر گورنر اور وزرا کی رہائش گاہوں کے اطراف بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ پولیس نے اس علاقے کی جانب آنے والے افراد کی تلاشی لی، جب کہ بکتر بند گاڑیاں، قیدیوں کی وین اور فساد پر قابو پانے والی پولیس کی گاڑیاں وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف جاتی دکھائی دیں۔
مزید پابندیاں آرمی اسٹیڈیم کے قریب خیبر روڈ پر بھی عائد کی گئیں، جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے لوگوں کو رکاوٹیں عبور کرنے سے روکا۔ شہر کے دیگر علاقوں، بشمول یونیورسٹی روڈ اور اسٹیڈیم چوک، میں بھی پابندیاں دیکھنے میں آئیں اور کنٹینرز کے ذریعے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے محدود راستے چھوڑے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی روڈ کو تہکال کے مقام پر بند کردیا گیا تھا، جب کہ صدر بازار جزوی طور پر کھلا رہا۔ امن چوک تک رسائی ممکن تھی، تاہم وہاں ٹریفک معمول سے کم رہی۔
دوپہر کے وقت انٹرنیٹ سروسز بھی معطل رہیں، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔ رہائشیوں کو موبائل فون سروس کی بندش اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پشاور سے اسلام آباد کی جانب سیاسی مارچوں کے باعث وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر راستے بند کیے جاتے اور کنٹینرز لگائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد پشاور کے اندر بھی بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔
پشاور میں پابندیاں کب تک برقرار رہیں گی اور معمول کی ٹرانسپورٹ و مواصلاتی خدمات کب بحال ہوں گی اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔







