عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بنکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ خطے میں تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مناسب مقدار میں ایندھن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور ملک کو ایندھن کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جب کہ زراعت سمیت معیشت کے اہم شعبے بھی مستحکم ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت مہنگائی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت کورونا وبا کے بعد شدید دباؤ کا شکار رہی، تاہم 2024 میں آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ کے قرض پروگرام کے تحت معاشی استحکام کی کوششیں جاری ہیں۔ اس پروگرام میں زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی بڑھانے سمیت متعدد اصلاحاتی اقدامات شامل ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی مجوزہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کے حوالے سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سہولت کا مقصد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے تو پاکستان کو نمایاں مدد ملے گی، تاہم انہوں نے مذاکرات مکمل ہونے کے لیے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا۔
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ اگر یہ سہولت نہ بھی ملی تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی متاثر نہیں ہوگی۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) اور امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا، جس کے تحت توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی پروگرام کے تحت تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ایک درجن سرکاری اداروں پر کام کر رہی ہے، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور ہوائی اڈوں کے انتظامی امور نجی شعبے کے حوالے کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال ان میں سے پانچ سے چھ اداروں کی نجکاری یا نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل مکمل ہو جائے گا، جس سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ حاصل ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت گزشتہ سال قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری بھی کر چکی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک کی معاشی ترقی میں نجی شعبہ مرکزی کردار ادا کرے، جب کہ حکومت ایسا ماحول فراہم کرنے پر توجہ دے گی جو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دے۔
پاکستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری کو آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ خسارے میں چلنے والے ادارے سرکاری مالی وسائل پر دباؤ بڑھاتے ہیں۔







