اعلیٰ سطحی سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی اہم مشاورت میں واضح پیغام دیا گیا کہ “اب سب کچھ ٹھیک ہے، الحمدللہ”، اور تمام تر چیلنجز کے باوجود مذاکرات کے انعقاد میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اور تہران سے اعلیٰ سطح کے وفود کی اسلام آباد آمد متوقع ہے، جن میں اہم سفارتی اور سیکیورٹی حکام شامل ہوں گے۔ پاکستان اس موقع پر خود کو ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق حالیہ دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی، جو پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئی، کو بعض مشکلات کا سامنا ضرور رہا۔ ان میں لبنان سے جڑے معاملات اور چند مبینہ خلاف ورزیاں شامل ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مسائل ایسے حساس معاہدوں میں غیر معمولی نہیں ہوتے۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کچھ بیرونی عناصر، خاص طور پر اسرائیل، اس جنگ بندی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستانی حکام ان خدشات کو زیادہ اہمیت دینے کے بجائے مذاکرات کے مثبت نتائج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، وقتی رکاوٹیں امن کے بڑے مقصد کی راہ میں حائل نہیں ہوں گی۔

اہم پیش رفت سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ پورے عمل کو انتہائی رازداری میں رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی، افواہ یا بیرونی مداخلت سے بچا جا سکے۔ “خاموش سفارت کاری” کو اس مرحلے پر کامیابی کی کنجی قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کا اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان آنے والوں کو ’ویزا آن ارائیول‘ دینے کا فیصلہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والی یہ پیش رفت مستقبل کے امن عمل کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، اور کسی بھی مثبت پیش رفت کو عالمی امن کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔