برنی سینڈرز کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ امریکا کے صدر ہیں، کسی بادشاہ کی طرح من مانی کرنے والے حکمران نہیں۔
امریکی سینیٹر نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ صدر ہیں، پاگل بادشاہ نہیں، اس لیے صدر کی حیثیت سے ہی اپنے فرائض انجام دیں۔‘‘
برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کا نام ’’آبنائے امریکا‘‘ رکھنے کے بعد اسے اپنے نام سے منسوب کرنے کے امکان کا عندیہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کی اصل ترجیح نام تبدیل کرنا نہیں بلکہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ایسی جنگ ختم کی جائے جس کے اثرات براہِ راست ان کی روزمرہ زندگی اور معیشت پر پڑ رہے ہیں۔
برنی سینڈرز کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے باعث ڈیزل کی قیمت تقریباً 5.69 ڈالر فی گیلن جبکہ پٹرول کی قیمت 4.12 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے زور دیا کہ امریکی حکومت کو جنگی کشیدگی بڑھانے کے بجائے عوام کو درپیش معاشی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اس آبی گزرگاہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اسی لیے خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
برنی سینڈرز کی جانب سے صدر ٹرمپ پر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی اور جنگ کے معاشی اثرات امریکا میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔







