اس موقع پر اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدت، بھائی چارے اور اعتماد پر مبنی ہیں، سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کا مخلص دوست اور آزمودہ بھائی رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ پاکستان–سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دوستی، اعتماد اور علاقائی امن کا مظہر ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرپا شراکت داری اور ترقی کے نئے باب کا آغاز ہے۔

انہوں نے شاہ سلمان، ولی عہد محمد بن سلمان، اسپیکر مجلسِ شوریٰ اور سعودی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت نے ہمیشہ مسلم امہ کے اتحاد اور عالمی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو بھی سراہا۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں اور مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی حمایت قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی چیئرمین شوریٰ ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ کو پاک–سعودی تعلقات کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ کل دیا جائے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبداللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرکے دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔  پاکستان اور سعودی عرب ہر شعبے میں ساتھ ہیں، جب کہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کو مزید قریب لایا ہے، یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ دوستی اور تعاون کی علامت ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ملائیشیا کا مشترکہ اعلامیہ: دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق، فلسطین میں نسل کشی کی مذمت

چیئرمین شوریٰ کونسل نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا اہم ملک ہے اور سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو کلیدی حیثیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک میں اتحاد اور یکجہتی ہی امت مسلمہ کے مسائل کے حل کی بنیاد ہے۔

واضح رہے کہ ملاقات میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سمیت اراکین قومی اسمبلی سحر کامران، ملک عامر ڈوگر، زیب جعفر، مجاہد علی اور نور عالم خان بھی شریک تھے۔