استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ناکامی کے بعد ترکی نے دونوں فریقوں کے درمیان فوری تصفیے کے لیے اعلیٰ سطحی تین رکنی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ روز باکو سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ وفد میں ترک وزیرِ اعظم کے ساتھ وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان، وزیرِ دفاع یاشار گولر اور انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفد کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جلد از جلد مستقل جنگ بندی اور دیرپا امن کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

خیال رہے کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب جمعہ کی شب پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا تھا کہ استنبول اور دوحہ میں ہونے والی بات چیت بے نتیجہ رہی ہے اور اگر افغانستان کی سرزمین سے دوبارہ حملے ہوئے تو پاکستان جارحانہ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

استنبول میں مذاکرات کے تین ادوار کے دوران دونوں طرف سے معاملات حل نہ ہوسکے اور فریقین ایک دوسرے پر مذاکرات ناکام بنانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا کہ افغان سرزمین پر پناہ لئے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس، قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں، جب کہ افغان طالبان کی جانب سے بعض مطالبات کو غیر عملی قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو اب قبول نہیں کیا جائے گا، پاکستان

کابل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھی مذاکرات ناکامی کی وضاحت کی اور الزام لگایا کہ پاکستان کے مطالبات غیر معقول اور ناقابلِعمل تھے۔

ان کا کہنا تھا  کہ پاکستان نے استنبول مذاکرات میں ایسی ضمانتیں مانگیں کہ افغان حکومت کیسے یقینی بنا سکتی ہے کہ وہاں سے ایک بھی دہشت گردی کا واقعہ نہ ہو۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی رکھی کہ ٹی ٹی پی کے گروپس کو افغانستان منتقل کر دیا جائے، جب کہ افغان قیادت نے اس قسم کے تقاضوں کو عملی طور پر ناممکن قرار دیا۔

اسپیکر سیاسی حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ مذاکرات کی ناکامی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے، اسی پس منظر میں ترکی کی ثالثی کی کوششوں کو ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔

دفترِ خارجہ اور سکیورٹی حلقوں نے اس سلسلے میں ترک وفد کے دورے کا خیرمقدم کیا ہے جب کہ حکومت نے ثالثی کے ذریعے معاملہ پر پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امن کی خاطر ڈائیلاگ جاری رکھنا ضروری ہے، مگر ساتھ ہی سرحدی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے پاکستان کو اپنی دفاعی ضرورتوں کے مطابق ہر آپشن پر غور کرنے کا حق حاصل ہے۔ ترکی کا وفد اسلام آباد پہنچ کر دونوں ملکوں کے نمائندوں سے بات چیت کرے گا اور ثالثی کے تحت تصدیق کے طریقہ کار اور نفاذ کے میکانزم پر زور دے گا۔