رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ گزشتہ برس دسمبر میں ماسکو میں طے ہوا، جس کے تحت روس آئندہ تین برسوں کے دوران ایران کو 500 ’وربا‘ لانچر یونٹس اور تقریباً 2 ہزار 500 ’9 ایم 336‘ میزائل فراہم کرے گا۔ اخبار کے مطابق یہ تفصیلات مبینہ طور پر روسی سرکاری دستاویزات اور معاہدے سے آگاہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے ماسکو میں موجود نمائندے کے درمیان طے پایا، ایران نے گزشتہ سال جولائی میں باضابطہ طور پر ان جدید فضائی دفاعی نظاموں کی فراہمی کی درخواست کی تھی۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ نے مجھ سے پوچھا ایران امریکی طاقت سے گھبرا کیوں نہیں رہا، سٹیو وٹکوف

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ ’وربا‘ نظام کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور بغیر پائلٹ کے طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،ایسے نظام ایران کی قریبی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکی افواج کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی کلیدی جوہری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم بعد ازاں سامنے آنے والے ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزوں میں کہا گیا کہ ان حملوں سے ایران کا پروگرام مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا بلکہ اسے چند ماہ پیچھے دھکیلا گیا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل پورا مشرقِ وسطیٰ حاصل کرلے تو اعتراض نہیں ہوگا، امریکی سفیر مائیک ہکابی

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک نے جنگی حالات میں ہونے والے نقصانات پر قابو پا لیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مستحکم ہے،ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور ایران کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا ایک باضابطہ معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور روسی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر اس مبینہ معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ اور امریکا کے لیے بھی نئی سفارتی اور تزویراتی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں، جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے مزید پابندیوں یا سفارتی دباؤ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔