نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت اور صدر مملکت اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کو دہشتگردی اور بدامنی سے بچانے کے لیے غیر معمولی آئینی اقدام ضروری ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا. صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر لانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جس کے باعث انہوں نے چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو صورتحال پر بریفنگ کے لیے طلب کیا تھا، اجلاس کا مقصد صوبے میں امن و امان، انسداد دہشتگردی کے اقدامات اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا تھا۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق اجلاس کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 افراد کی شہادت کی اطلاع بھی ملی، جن میں کسٹمز کے 4 اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شامل تھے۔ انہوں نے دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو مل کر سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

گورنر نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی سخت تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے مسئلے پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہی، صوبے میں ایک طرف دہشتگردی کے واقعات جاری ہیں جبکہ دوسری جانب سیاسی سرگرمیوں اور اسلام آباد مارچ پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

انہوں نے افغانستان سے متعلق بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کو حملوں کا سامنا ہے، افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات پر صوبائی حکومت کو بھی واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی کرنے والے عناصر کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں ریاستی پالیسی کو قومی سلامتی اور آئین و قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے وفاق اور صوبے کے درمیان پالیسی میں ہم آہنگی ضروری ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے اپنے زیر صدارت سیکیورٹی اجلاس کے حوالے سے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرنا چاہتی ہے تو وہ قانونی عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے آئین کے متعلقہ آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ حکام سے بریفنگ لینا ان کے فرائض میں شامل ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے مجوزہ اسلام آباد مارچ پر بھی تنقید کی، صوبے سے اسلام آباد کی جانب آنے والے قافلوں کی سیکیورٹی اور نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کا اسلحہ، غیر قانونی سامان یا مشتبہ افراد قافلے کا حصہ نہ بن سکیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر سیاسی قافلوں کی مناسب سیکیورٹی چیکنگ نہ ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ خدشات گورنر کے اپنے بیان اور حکومتی مؤقف پر مبنی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں گورنر کے حالیہ سیکیورٹی اجلاس اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کے معاملے پر بھی اختلاف سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو اجلاس میں بلانے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے، جبکہ صوبائی ایڈووکیٹ جنرل نے بھی گورنر کے اختیارات اور آئینی حدود سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب مرکز اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی آئین کے تحت گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کیا جاچکا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کوئی معمول کا اقدام نہیں بلکہ غیر معمولی آئینی راستہ ہے، تاہم اگر صدر مملکت اور وزیراعظم یہ سمجھیں کہ صوبے میں دہشتگردی روکنے اور امن و امان بحال کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہے تو اسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ماضی میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث ایمرجنسی کے نفاذ کی مثال بھی دی۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر سیاسی بحث ایسے وقت میں جاری ہے جب صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، وفاق اور صوبے کے تعلقات اور پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ موجودہ صورتحال میں گورنر اور صوبائی حکومت کے درمیان آئینی اختیارات سے متعلق اختلاف بھی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔