حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان نے اس عارضی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور گلف میں جاری کشیدگی کو نارملائز کر کے خطے میں بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی،امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے تحفظ کے لیے ناکام ہیں اور دنیا بھر میں انسانی حقوق اور انصاف کے علمبردار امریکی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا کردار اب عالمی سطح پر نہایت اہم ہو گیا ہے، پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم رکھنے چاہئیں اور باہمی تجارتی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔ 

انہوں نے خاص طور پر ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کو جلد شروع کرنے پر زور دیا اور کہا کہ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ آزاد تجارتی تعلقات اور ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

انہوں  نے پاک-سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکی اور ایران کو شامل کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ خلیجی ممالک کو رضاکارانہ شراکت کے لیے مدعو کیا جائے،حالیہ جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی اڈے صرف اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں، اور امریکہ خلیجی ریاستوں کا مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانیت کے تحفظ کے لیے عالمی طاقتوں جیسے چین اور روس کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں شامل کیا جائے تاکہ ایک مضبوط بلاک قائم کیا جا سکے۔ حافظ نعیم الرحمان نے لبنان پر اسرائیلی دہشت گردی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ عالمی برادری کو اس کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: امریكا و ایران اتحادیوں سمیت جنگ بندی پر متفق، اطلاق لبنان سمیت ہر جگہ فوری طور پر ہوگا: شہباز شریف

انہوں نے اختتام پر کہا کہ پاکستان کی ثالثی نے دنیا کو ایک اہم پیغام دیا ہے اور اب وقت ہے کہ ملک اپنی سفارتی قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں دیرپا امن قائم کرے اور عوام کے مفادات کو یقینی بنائے۔

یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کی سفارتی مہارت کی عکاس ہے بلکہ خطے میں توازن اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مزید مضبوط بنائیں۔