ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صیہونی حکومت کے سربراہ کے دفتر کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حملے میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو کی موجودہ حالت یا انجام کے بارے میں فوری طور پر معلومات دستیاب نہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حملوں کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور مختلف شہروں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
اسرائیل نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کے قریب حملہ ہوا تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
مزید پڑھیں: ایران میں رجیم چینج کی کوششیں نہ روکی گئیں تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس
ادھر ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے چھ فوجی اڈوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بحرین، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے دفتر پر حملے کا دعویٰ تنازعے کو انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع علاقائی جنگ کے دہانے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔







