حکام کے مطابق دھماکا پیر کی سہ پہر ضلع کوشامبی کے گاؤں منوری میں تھانہ پیپری کی حدود میں قائم پٹاخہ فیکٹری میں ہوا۔

دھماکے کے بعد 11 زخمیوں کو علاج کے لیے پریاگ راج کے ایس آر این اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گئے۔ 5 شدید زخمیوں کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد فیکٹری کے قریبی علاقے کے رہائشی تھے، جبکہ واقعے میں 18 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ فیکٹری کے علاوہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ فیکٹری سے متصل 5 سے 6 مکانات بھی منہدم ہوگئے۔ دھماکے کے نتیجے میں ہائی وولٹیج بجلی کا کھمبا اور تاریں بھی متاثر ہوئیں۔

بجلی کے محکمے کا عملہ متاثرہ تنصیب کی مرمت اور بجلی کی فراہمی بحال کرنے میں مصروف ہے۔

دھماکے کے باعث جائے وقوعہ کے قریب سے گزرنے والی دہلی-ہاوڑہ ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی تقریباً ایک گھنٹے کے لیے معطل رہی۔ اجمیر-سیالدہ ایکسپریس کو منوری ریلوے اسٹیشن واپس بھیج دیا گیا، جبکہ دہلی سے وارانسی جانے والی وندے بھارت ایکسپریس کو سید سرواں ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔

ریسکیو آپریشن میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس، پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ایک درجن سے زائد فائر ٹینڈرز اور تقریباً دو درجن ایمبولینسز جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جبکہ بھارتی فضائیہ کے 50 سے زائد اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں معاونت کر رہے ہیں۔

فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پالیا ہے، تاہم ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ بھاری مشینری اور تقریباً 10 بلڈوزروں کی مدد سے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک افراد کے لواحقین کے لیے فی خاندان 2 لاکھ بھارتی روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 50 ہزار بھارتی روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔