سیاسی طبقے اور ریاست نے تقریباً ہر محاذ پر محاذ آرائی پیدا کرنے اور پہلے سے موجود سیاسی تنازعات کو مزید شدت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مرکز میں اتحادی حکومت کا حصہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر کھلے عام ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہیں۔
جماعت اسلامی پٹرول کی بلند قیمتوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ جماعت نے دھرنے دینے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی دھمکی بھی دی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ستمبر کے آخر میں ایک بار پھر اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ حال ہی میں پارٹی اپنے رہنما عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے معاملے پر حکومت کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہی۔
دوسری جانب یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آیا پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کو ایک درجن یا اس سے زیادہ ’انتظامی یونٹس‘ میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔
ان تمام معاملات کو کئی ہفتوں سے خبروں میں نمایاں جگہ مل رہی ہے۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی پیش رفت کا اس شہری کی زندگی سے کیا تعلق ہے جو مسلسل بڑھتے ہوئے بجلی اور ایندھن کے بل ادا کرنے پر مجبور ہے؟
آزاد جموں و کشمیر کا تنازع اس حوالے سے ایک مثال ہے۔ اس معاملے نے حکمران اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے مسلم لیگ ن پر میرپور ڈویژن میں انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کا الزام عائد کیا ہے۔
انہوں نے چار حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ان کے مطابق بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں۔ مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں، جن میں رانا ثناء اللہ بھی شامل ہیں، نے اس معاملے کو پیپلز پارٹی کی طرز حکمرانی کے ریکارڈ سے جوڑا ہے۔
اس تنازع کو وفاقی حکومت میں دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کرنے سے روکنے کے لیے کئی مرتبہ مذاکرات بھی ہو چکے ہیں۔
بظاہر جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم عوامی مسائل سے زیادہ قریب نظر آتی ہے، جن میں پیٹرولیم لیوی اور کم آمدنی والے گھرانوں پر ٹیکسوں کا بوجھ شامل ہے۔
حافظ نعیم الرحمن اس تحریک کو اس مؤقف کے گرد منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت غریب عوام سے سینکڑوں ارب روپے وصول کر رہی ہے جبکہ امیر طبقے کو بڑی حد تک ٹیکس کے بوجھ سے بچایا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف آئینی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔
پی ٹی آئی اور عدلیہ کے درمیان جاری تنازع کسی پالیسی پر مبنی نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی قیدی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران خان کو ایک نجی اسپتال منتقل کرنے کے حکم اور اس کے بعد حکومت کے اقدامات نے سیاسی سرگرمیوں کا بڑا حصہ اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی یہ تنبیہ کہ عوام کا صبر ختم ہو سکتا ہے، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر سیاسی محاذ آرائی کی طرف بڑھ چکا ہے۔
ان میں سے کوئی بھی معاملہ عام شہری کو فوری عدالتی سماعت، فعال پولیس اسٹیشن، اشیائے خورونوش کی کم قیمتوں، بہتر طبی سہولتوں یا بہتر سفری نظام کی ضمانت نہیں دیتا۔
نئے صوبوں کے قیام کی بحث وزیر داخلہ کی جانب سے ’سسٹم کولیپس‘ سے متعلق بیانات کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک درجن نئے انتظامی یونٹس سے لے کر مبینہ طور پر 33 وفاقی یونٹس تک کی تجاویز زیر بحث آئیں۔
تاہم اس حوالے سے تمام دعوے اب بھی قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ کسی بھی بڑی انتظامی تبدیلی کے لیے آئینی ترامیم درکار ہوں گی، جن کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق رائے ضروری ہے۔ تاہم ان میں سے بیشتر جماعتیں اس تجویز سے محتاط دکھائی دیتی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ واحد بڑی سیاسی جماعت ہے جو اس تجویز کی فعال طور پر حمایت کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کا فیصلہ عوام سے کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بیشتر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بجائے صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا چاہیے۔
پاکستان میں زیادہ تر بڑے سیاسی تنازعات میں ایک بنیادی مماثلت پائی جاتی ہے۔ ان میں ریاست اور شہریوں کے درمیان مسائل کے حل کے بجائے زیادہ تر سیاسی اشرافیہ کے درمیان انتظامی اصلاحات کے مختلف تصورات پر مذاکرات ہوتے ہیں۔
یہ تنازعات سیاسی جماعتوں کے درمیان یا منتخب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طاقت کے توازن کو ضرور تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن شاذ و نادر ہی ان کا مقصد عوام کی جانب سے اور عوام کے لیے چلنے والی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے۔
اختلافِ رائے کے لیے گنجائش بھی محدود ہوتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں متعارف کرائی گئی ’فارن میڈیا فسیلیٹیشن گائیڈ لائنز‘ کے تحت بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو اسلام آباد، کراچی یا لاہور سے باہر رپورٹنگ کرنے سے پہلے اجازت لینا ہوگی۔
اس پابندی پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت مختلف اداروں نے تنقید کی ہے۔
ان اداروں کے مطابق یہ ملک کے ان علاقوں میں بدامنی اور دیگر واقعات کی کوریج پر براہ راست پابندی عائد کرنے کے مترادف ہے جو پہلے ہی میڈیا کی کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں، کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی آواز دبانے کے لیے سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔
زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سیاسی محاذ آرائی کے اگلے مرحلے میں کون کامیاب ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان میں سے کوئی ریاست کی اپنے شہریوں کے لیے بنیادی ذمہ داریوں کو اہم ترین ترجیح دینے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
شہریوں کے سامنے جواب دہی کسی بھی طرز حکمرانی اور سیاسی نظام کی بنیادی شرط ہونی چاہیے۔
پاکستان کے سیاسی نظام میں توانائی اور سرگرمی کی کبھی کمی نہیں رہی۔ جس چیز کی کمی رہی ہے وہ اس توانائی کو شہریوں کی فلاح و بہبود کی طرف موڑنے کا نظم و ضبط ہے۔
تحریر: محمد زین اختر
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







