اپنے ویڈیو بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ری ویمپنگ کے بعد AI Hub کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب کو پڑوسی ملک سے براہِ راست خطرہ نہیں، بلکہ دیگر صوبوں سے پنجاب میں داخل ہونے والے دہشت گردوں سے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کی ذمہ داری پورے پنجاب میں امن و امان برقرار رکھنا اور دہشت گردوں و کالعدم تنظیموں پر نظر رکھنا ہے، اسی مقصد کے لیے پنجاب حکومت نے ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کی تشویش کو ایک سیاسی اور صوبائی معاملہ بنا دیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو عناصر پاکستان سے سامنے سے نہیں لڑ سکتے، وہ اب پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے بقول بھارت کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، جبکہ افغانستان کی جانب سے بھی شرپسند عناصر پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک صوبے تک محدود نہیں اور جو عناصر دیگر علاقوں سے پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پنجاب کی مختلف چیک پوسٹوں پر دہشت گردوں کو روکنے کی کوششوں کے دوران پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کچے کے علاقے میں ہونے والے آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سالہا سال سے مختلف حکومتیں وہاں امن قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، تاہم مؤثر نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق سندھ میں آپریشن شروع ہونے پر ڈاکو پنجاب کی جانب جبکہ پنجاب میں کارروائی ہونے پر سندھ کی طرف فرار ہو جاتے تھے، تاہم منظم کارروائی کے بعد کچے کے علاقے میں حالات بہتر ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کچے کے علاقے میں کئی ماہ سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ پنجاب میں کرائم اگینسٹ پراپرٹی میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے پولیس کو جدید خطوط پر منظم اور ضروری آلات سے لیس کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کے بیان پر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ردعمل پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ صوبہ پاک فوج یا پولیس کے حوالے کرکے حکومت خود ملک کے دوروں پر نکل جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پختونوں کے حقوق اور عزت کی بات کی جا رہی ہے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات کس حد تک میسر ہیں، بچوں کو اسکول، اسکالرشپس اور سڑکیں مل رہی ہیں یا نہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، تاہم صوبے میں امن و امان اور سی ٹی ڈی کو مؤثر بنانے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے مریم نواز سے معافی کے مطالبے پر کہا کہ صوبائیت مسلم لیگ (ن) یا وزیراعلیٰ پنجاب کی پالیسی نہیں۔ ان کے بقول مریم نواز کی خواہش ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی امن قائم ہو اور وہاں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور نیٹ ورکس کا اسی طرح خاتمہ کیا جائے جیسے پنجاب میں کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت صرف اپنے صوبے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات سے لیس کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی امداد بھی دی۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ مریم نواز نے بچوں کو لیپ ٹاپس دینے سمیت مختلف منصوبوں کے ذریعے صوبے میں حکومتی اقدامات کیے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف بھی ان کی پالیسی واضح ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ جن صوبوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، انہیں بھی اپنے اداروں کو مضبوط اور منظم کرنا ہوگا تاکہ اسپانسرڈ دہشت گردی اور شرپسند عناصر کسی بھی صوبے میں داخل ہو کر امن و امان خراب نہ کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہیں کسی سے حب الوطنی کا کارڈ چاہیے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے اپنے اقدامات کے ذریعے اپنا مؤقف کئی بار واضح کیا ہے۔







