سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت خطے میں تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شرکت کے لیے مصر کا اکثر ذکر کیا جاتا ہے، جب کہ ایران بھی مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ایسا فریم ورک اور شرائط طے کرنا ہوں گی جن کے تحت ایران کو معاہدے میں شامل کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے کسی فریم ورک پر اتفاق ہوجاتا ہے، جس کی شرائط کے تحت ایران مکہ معاہدے میں شامل ہوسکے، تو یہ انتہائی مثبت اور عملی اقدام ہوگا۔
سرگئی لاوروف نے خطے کے مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر بھی مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کا دائرہ وسیع ہونے سے خطے کے مختلف ممالک کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
سرگئی لاوروف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے فریم ورک پر خطے میں خاصی توجہ مرکوز ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے مکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے بالخصوص ایران، مصر اور الجزائر کے نام لیے ہیں، جس سے مجوزہ دفاعی تعاون کے ممکنہ دائرہ کار پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔







