کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ یومِ شہدا، یومِ فضائیہ اور سلام پاکستان کے حوالے سے تقریبات قومی جذبے کے ساتھ جاری ہیں، جن میں ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ اور تشکیل میں سندھ کا اہم کردار ہے اور صوبہ سندھ ملک کے بانی صوبوں میں شمار ہوتا ہے، پاکستان چاروں صوبوں کے ساتھ ہی مضبوط اور متحد رہے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ملک کی وحدت اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وقتاً فوقتاً سامنے آنے والی تجاویز مسائل کا مستقل حل نہیں بلکہ اس حوالے سے مزید بحث اور سیاسی اختلافات کو جنم دے سکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ملک میں بلدیاتی نظام سے متعلق بھی گفتگو کی، سندھ میں باقاعدہ بلدیاتی نظام موجود ہے اور صوبے میں مقامی حکومتوں کے ادارے شہری و عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں سندھ میں لوکل باڈیز کا ایک منظم نظام موجود ہے، جس کے ذریعے اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مراد علی شاہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل اور صوبے میں انتظامی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اس سے قبل بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجاویز کو مسترد کرچکے ہیں۔

چند روز قبل اپنے ایک بیان میں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں سے متعلق پیش کی گئی تجویز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پرانی اور ناقابلِ عمل تجویز قرار دیا تھا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک میں مزید صوبوں کے قیام کی باتیں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور پاکستان موجودہ چار صوبوں کے ساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت نئے صوبوں کے معاملے پر اپنے مؤقف پر قائم ہے اور سندھ کی موجودہ انتظامی و آئینی حیثیت میں کسی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتی۔

نئے صوبوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی بھی آئینی تبدیلی کے لیے پارلیمانی اور آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔