ایک ٹی وی انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کسی اسمبلی کی مدت کے دوران منظور کی گئی قرارداد پر اگر عملدرآمد نہ ہوسکے تو اگلی اسمبلی کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسی معاملے پر نئی قرارداد منظور کرے یا نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور سے متعلق ماضی کی قراردادوں کو موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال میں اسی حیثیت سے نافذ العمل نہیں سمجھا جاسکتا، اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ فورمز پر نئی پیش رفت درکار ہوگی۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ یہ ایک اہم سیاسی اور آئینی معاملہ ہے جس پر تفصیلی بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے، نئے صوبوں کے قیام جیسے معاملات پر قومی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے معاملے پر فی الحال یا تو خاموش ہے یا اس بحث کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتی، تاہم اگر اس موضوع پر باضابطہ بحث کرنی ہے تو پارلیمنٹ اس کے لیے سب سے موزوں فورم ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ سیاسی بیانات یا محض مطالبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئین اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت الیکشن کمیشن حکومت کو ہدایت کرچکا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات منظور شدہ بلدیاتی قانون کے تحت کرائے جائیں۔
ان کے مطابق اسلام آباد کے بلدیاتی نظام سے متعلق معاملہ فی الحال الیکشن کمیشن کی ہدایات اور موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے سمیت کسی بھی آئینی تبدیلی کے لیے باقاعدہ آئینی اور پارلیمانی عمل ضروری ہوگا، صرف سیاسی سطح پر کسی تجویز یا مطالبے سے صوبے کی تشکیل ممکن نہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے متعلق سوال پر کہا کہ وزیراعظم نے ان کی زبان بندی نہیں کی، محسن نقوی اپنی رائے دینے کے لیے آزاد ہیں۔
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ اگر عوامی ریفرنڈم کرانے کی بات کی جائے تو اس کے لیے آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے اور پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کسی وزیر کا بیان بذاتِ خود آئینی یا قانونی عمل کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ ریاستی اور آئینی معاملات میں فیصلہ متعلقہ اداروں اور پارلیمنٹ کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام، اسلام آباد کی حیثیت اور بلدیاتی نظام جیسے معاملات پر سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ کے اندر سنجیدہ اور جامع بحث کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہوسکے۔
وزیراعظم کے مشیر کے بیان کے بعد جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی صوبائی حیثیت سے متعلق پرانی قراردادوں اور نئے صوبوں کے قیام پر ایک بار پھر سیاسی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔







