پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج ذاتی نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ ہے۔ عوام نے دھرنوں میں پرامن کردار ادا کیا ہے اور عوام کو ریلیف دلوانے کے لیے جماعت اسلامی ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرول، ڈیزل، گیس اور آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں جبکہ مہنگائی اور بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ حکمران طبقے کو عام آدمی کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے رات کی تاریکی میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پٹرولیم لیوی اور قیمتوں میں اضافہ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے، تاہم عالمی مارکیٹ میں موجودہ قیمتیں قابل برداشت ہیں، اصل مسئلہ پٹرولیم لیوی کا ہے۔ ان کے مطابق فی لیٹر پٹرول پر 130 سے 148 روپے تک اضافی وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں حکومتی ٹیم کے ساتھ اڑھائی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے، جن میں وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور ٹیکنیکل ماہرین بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی نے بھرپور تیاری کے ساتھ اپنے مطالبات اور تجاویز حکومت کے سامنے پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کے پاس جماعت اسلامی کے دلائل کو رد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ حکومت نے مزید دو سے تین دن کا وقت مانگا ہے، جس کے بعد مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق وفاقی حکومت کی ایک کمیٹی نے منصورہ پہنچ کر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی تھی، جس میں مذاکرات پر اتفاق ہوا۔ حکومتی کمیٹی نے دھرنا مؤخر کرنے کی درخواست کی، تاہم حافظ نعیم الرحمان نے اسے مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے بھی دھرنے مؤخر کرنے کی پیشکش پر غور کرنے کا کہا، لیکن جماعت اسلامی نے دھرنا مؤخر کرنے سے صاف انکار کردیا۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ واپس لیا جائے اور بنیادی عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔







