چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل اسلام آباد میں کاروبار کرتے ہیں اور پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج اور لانگ مارچ دارالحکومت لانے کے اعلان کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار اس معاملے میں کس حیثیت سے متاثرہ فریق ہیں؟ اس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر احتجاج اسلام آباد میں داخل ہوتا ہے تو شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور معمولاتِ زندگی میں خلل پڑنے کا امکان ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احتجاج سے متعلق مختلف بیانات اور اخباری تراشے بھی پیش کیے۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ احتجاج کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب متعلقہ افراد کے متعدد مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

وکیل کے مطابق زیرِ سماعت مقدمات کے فیصلے عدالتوں کو قانون کے مطابق کرنے چاہئیں اور عدالتی کارروائی کے بجائے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی روایت کو فروغ نہیں ملنا چاہیے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی زیرِ التوا مقدمے کی بنیاد پر احتجاج کو جواز فراہم کیا گیا تو مستقبل میں ملک بھر میں زیرِ سماعت مقدمات کے فریقین بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرسکتے ہیں، جس سے عدالتی نظام اور امن و امان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے 2024 کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس دوران اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں صورتحال کشیدہ ہوئی۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے باعث کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، کاروباری سرگرمیوں اور امن و امان کے تحفظ کے لیے حکومت کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی جائے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کا آئینی حق اپنی جگہ موجود ہے، تاہم اس حق کے استعمال کے ساتھ دیگر شہریوں کے حقوق اور ریاستی اداروں کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران احتجاج سے متعلق آئینی اور قانونی دفعات بھی عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس امن و امان برقرار رکھنے اور کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں مناسب انتظامی اقدامات کرنے کا اختیار موجود ہے۔

عدالت نے سرکاری مشینری کے ممکنہ استعمال سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ احتجاج کے دوران سرکاری وسائل اور مشینری استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر وزارت داخلہ کی جانب سے 21 نومبر 2024 کو جاری کیا گیا خط بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریق کو عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور اپیل کے قانونی راستے اختیار کرنے کے مواقع حاصل رہے ہیں، اس لیے عدالتی معاملات پر احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے کے بجائے قانونی فورم سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی نوعیت اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرلز پولیس اور ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

لارجر بینچ کی تشکیل کے بعد آئندہ سماعت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان سے امن و امان، احتجاج کے ممکنہ اثرات اور قانونی نکات پر تفصیلی مؤقف طلب کیے جانے کا امکان ہے۔

کیس میں آئندہ سماعت اس حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے کہ عدالت پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج کے تناظر میں شہریوں کے بنیادی حقوق، احتجاج کے آئینی حق اور امن و امان برقرار رکھنے کی ریاستی ذمہ داری کے درمیان توازن سے متعلق کیا قانونی مؤقف اختیار کرتی ہے۔