آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثنا کو بھارت کے خلاف ویمنز ایشیا کپ کے گروپ میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔
فاطمہ ثنا نے بھارتی بیٹر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد انہیں پویلین کی جانب جانے کا اشارہ کیا تھا، جسے آئی سی سی نے ایسے اشارے کے طور پر قرار دیا جو ضابطے کے تحت قابلِ سزا ہے۔
جرمانے کے علاوہ فاطمہ ثنا کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 ماہ کے دوران یہ ان کا دوسرا ڈی میرٹ پوائنٹ ہے۔
اس سے قبل فاطمہ ثنا کو 6 اگست 2025 کو آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔
آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثنا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے عائد کی گئی سزا قبول کرلی، جس کے باعث باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
آئی سی سی کے قوانین کے تحت 24 ماہ کے دوران کسی کھلاڑی کے چار یا اس سے زائد ڈی میرٹ پوائنٹس ہونے کی صورت میں انہیں سسپنشن پوائنٹس میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔
قوانین کے مطابق دو سسپنشن پوائنٹس ہونے پر کھلاڑی کو ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے اور ٹی20 میچز کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے۔







