اسلام آباد میں "سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس نے کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم، باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، اسی لیے اس کی قانونی حیثیت اور بین الاقوامی اہمیت غیر معمولی ہے۔
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 12 بنیادی شقوں پر مشتمل ہے، جن کے تحت پاکستان اور بھارت دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دریاؤں کے بہاؤ، آبی منصوبوں اور متعلقہ تکنیکی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بروقت شیئر کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں اختلافات کے حل کے لیے ایک واضح اور مرحلہ وار نظام موجود ہے۔ اگر کسی معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہو تو پہلے دوطرفہ مذاکرات کیے جاتے ہیں، اس کے بعد متعلقہ فورمز سے رجوع کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر شق 9 کے تحت معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
کمشنر سندھ طاس معاہدہ نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی پن بجلی منصوبوں سے متعلق معاملات دو مرتبہ عالمی ثالثی عدالت کے سامنے پیش کر چکا ہے۔ دونوں مواقع پر عدالت نے اپنے فیصلوں میں سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نہ تو اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلوں میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں کسی قسم کی غیر قانونی رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا اور نہ ہی ایسے اقدامات کر سکتا ہے جو معاہدے کی شرائط یا پاکستان کے آبی حقوق سے متصادم ہوں۔
سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد باہمی اعتماد، قانونی ذمہ داریوں اور عالمی قوانین کی پاسداری پر ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہوتے ہیں بلکہ بین الاقوامی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے مطابق قابل قبول نہیں، جبکہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے کے تحت اپنی بعض ذمہ داریوں پر بھی مکمل عمل درآمد نہیں کر رہا، جو معاہدے کی روح اور طے شدہ اصولوں کے خلاف ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ ناکام ہوا تو دنیا کا کوئی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا، مصدق ملک
کمشنر سندھ طاس معاہدہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا، سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام صرف پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ اس بات کی ایک کامیاب مثال ہے کہ پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات بھی قانون، مذاکرات اور مؤثر ثالثی کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں، عالمی برادری کو بھی ایسے معاہدوں کے تحفظ اور ان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق تنازعات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیے جا سکیں۔
سید مہر علی شاہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی ذمہ داریوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور مستقبل میں بھی اپنے قومی مفادات، آبی حقوق اور سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے دفاع کے لیے تمام قانونی اور سفارتی اقدامات جاری رکھے گا۔







