عباس عراقچی نے العربی الجدید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بحری راستے کا معاملہ شامل ہے۔ ان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات اور نئے بحری راستے کے نقشے اجلاس میں شریک ممالک کو فراہم کیے جائیں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ معاہدے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرط ہے کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر واپس آئے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا، تاہم ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کرے گا۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ پیر کو عمان میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان سے متصل ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ آٹھ ممالک پر مشتمل یہ اجلاس عمان کے شہر صلالہ میں ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو کہا تھا کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ راستوں کے تعین سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے نتائج پر تبادلہ خیال اور معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب بحرین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا جس میں ایران موجود ہو۔

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور امکان ہے کہ امارات کی جانب سے ایک کم درجے کا عہدیدار عمان روانہ کیا جائے گا۔