قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا، جہاں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مجرم اپنی مجرمانہ سرگرمیاں کسی بھی جگہ انجام دے سکتے ہیں، دو چار افراد پر مشتمل گروہ بھی کسی بڑی اور پُرامن جگہ پر کارروائی کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد شناختی کارڈ دیکھ کر مخصوص صوبوں کے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ یہ جرائم پیشہ عناصر جعفر ایکسپریس کو روک کر بچوں کے سامنے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، تو یہ کون سے ناراض لوگ ہیں؟
انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں عوام کو قتل کرنے والوں کی لاشیں کن لوگوں نے جا کر اسپتالوں سے وصول کیں؟ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے دشمن ملک کے آلہ کار ہیں اور سندور آپریشن کے کارندے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سندور آپریشن کی ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے ان بھٹکے ہوئے افراد کو آگے لایا جا رہا ہے۔ یہ دشمن ملک کے اشارے پر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ کیا شفاف انتخابات ان کا مطالبہ ہے؟ کیا وہ کبھی اس سسٹم کا حصہ بنے ہیں؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ تیس مزدوروں کے شناختی کارڈ چیک کر کے انہیں گولیاں ماری گئیں۔ یہ لوگ مودی کے سندور آپریشن کو مکمل کرنے نکلے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے 17 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 33 عام شہریوں کو گھروں میں گھس کر قتل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ فورسز کے پہنچنے پر دہشت گرد اپنی کمین گاہوں کی طرف بھاگ گئے۔ 171 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ کچھ کو گرفتار بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان قازقستان تعلقات میں نئی پیش رفت، قازق صدر قاسم توکایف کل اسلام آباد پہنچیں گے
انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردوں کو مختلف طریقوں سے جواز دے کر ایکسپلین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے انہیں تقویت ملتی ہے۔ اے پی ایس واقعے کے بعد نواز شریف نے ان تمام لوگوں کو فون کر کے بلایا جو ایک دن پہلے وزیراعظم کو گھسیٹ کر نکالنے کی باتیں کر رہے تھے۔ جب ان دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دی گئی تو وہ دوبارہ اپنی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں، یہ لوگ پاکستان کے دشمن ہیں اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ 2018ء سے 2022ء تک ہم بھی کہتے رہے کہ آر ٹی ایس بٹھا کر انہیں حکومت میں لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ اب آپ سسٹم میں آ گئے ہیں۔ اسی سسٹم میں رہتے ہوئے اُس وقت کے وزیراعظم نے پارلیمانی کمیشن بنانے کی بات کی۔ کمیشن تو بنا، لیکن چار سال میں اس کا دوسرا اجلاس تک نہ ہو سکا۔ جب بھی پوچھا گیا تو پرویز خٹک کہتے تھے کہ خان صاحب اجازت نہیں دیتے۔ آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات میں وزیراعظم نے نہایت باعزت انداز میں انہیں کہا ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ہمیں واضح موقف اپنانا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر نے اس معاملے کو پوری دنیا میں اچھالا، لیکن جس طرح دہشت گردوں کی مذمت ہونی چاہیے تھی، وہ نہیں کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو شہید ہوئے۔ جیسے جیسے مودی کی حمایت کم ہوتی جائے گی، دہشت گردی بھی ختم ہوتی چلی جائے گی۔
واضح رہے کہ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔







