اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفینس فورسز ایکٹ ترمیمی بل 2026 کی شق وار منظوری لی گئی، جس کے بعد ایوان نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
بل کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمانڈ اور کنٹرول سے متعلق وسیع اختیارات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق امور پر وزیراعظم کو مشورہ دینے کا اختیار حاصل ہوگا، جب کہ مسلح افواج کی تنظیم اور اہم فوجی معاملات میں ضروری اقدامات کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔
بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کا باقاعدہ تعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سی ڈی ایف قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کرسکیں گے، جبکہ وزیراعظم کی منظوری سے انہیں مزید اختیارات بھی تفویض کیے جاسکیں گے۔
مجوزہ ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو قواعد و ضوابط وضع کرنے کے علاوہ ہدایات اور احکامات جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ قانون کی تشریح سے متعلق کسی ابہام کی صورت میں صدرِ مملکت کے حکم کو حتمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل میں پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کے فوری نفاذ کے ساتھ ایکٹ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور اعلانات کو بھی برقرار رکھنے کی تجویز شامل ہے۔
اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کا بل بھی پیش کیا گیا، جسے قومی اسمبلی نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ بھی ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دے چکی ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور سی ڈی ایف ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دونوں بل اب منظوری کے لیے سینیٹ کو بھیجے جائیں گے۔
دوسری جانب بل کی منظوری یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام ارکانِ قومی اسمبلی کو اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ پارٹی قیادت نے ارکان کو قانون سازی کے دوران عددی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سو فیصد حاضری کا پابند کیا تھا۔







