یہ اہم پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے باہر عمران خان تک رسائی نہ ملنے کے خلاف احتجاج اور مختصر دھرنا دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس کو آگاہ کیا کہ عمران خان سے ان کے اہلخانہ، وکلاء اور ذاتی معالجین کی ملاقاتوں سے متعلق متعدد درخواستیں کئی ماہ سے زیر التوا ہیں، تاہم ان پر اب تک باقاعدہ سماعت نہیں ہوسکی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عمران خان سے متعلق تمام اہم درخواستیں عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی، امید ہے عدالت اس معاملے میں جلد کوئی مثبت پیشرفت کرے گی۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق سپریم کورٹ میں اکتوبر 2025 سے ایک اپیل زیر التوا ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت عمران خان سے ملاقاتوں کو ریگولرائز کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی توجہ اس جانب بھی دلائی کہ عمران خان کی بہنوں کی جانب سے دائر درخواستیں بھی تاحال سماعت کی منتظر ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان کیسز کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ قانونی عمل میں مزید تاخیر نہ ہو۔
ادھر عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو مکمل طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، اس لیے انہیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے ذاتی ڈاکٹروں کے پینل سے کروانے کی اجازت دی جائے، جس میں ڈاکٹر خرم مرزا، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: کبھی راستے تو کبھی گندم روک کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ سہیل آفریدی
پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کی صحت، اہلخانہ سے ملاقاتوں اور قانونی مشاورت تک رسائی بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا معاملہ ہے، جس پر فوری عدالتی توجہ ضروری ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کے باہر جاری احتجاج چیف جسٹس کی یقین دہانی کے بعد ختم کردیا گیا۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے رکن انتظار پنجوتھا نے تصدیق کی کہ وکلاء نے اپنا احتجاج ختم کرکے پرامن طور پر منتشر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات مستقبل میں عمران خان سے متعلق قانونی اور جیل امور میں اہم پیشرفت کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔







