اس ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ایران کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کے معاملے پر خصوصی گفتگو ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا۔

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں، اور اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے، دورانیہ ہم طے کریں گے: امریکی وزیر دفاع

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی قیادت دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے گی جو غلط اندازوں یا غیر ضروری تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی راستوں اور ذمہ دارانہ رویے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیر دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف بھی موجود تھے۔ جبکہ پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سیکریٹری میجر جنرل محمد جواد طارق شریک تھے۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور سعودی عرب اور پاکستان جیسے اہم اتحادی ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے رابطے جاری رکھے ہوے ہیں۔