واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران میں جاری امریکی آپریشن منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور اب یہ کارروائی اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ امریکا طویل عرصے تک جنگ جاری نہیں رکھ سکتا تو یہ اس کی بڑی غلط فہمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس بھرپور فوجی وسائل، جدید اسلحہ اور جنگی سازوسامان موجود ہے جس کی بدولت کارروائی کو ضرورت کے مطابق جاری رکھا جا سکتا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق موجودہ مرحلے میں امریکی افواج ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل تیار کرنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکا اس جنگ میں پھنس چکا ہے، تاہم یہ محض ایران کی خواہش ہو سکتی ہے کیونکہ امریکا اپنی حکمت عملی کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دورانیے کے بارے میں کوئی حتمی وقت طے نہیں کیا گیا۔ یہ کارروائی چار ہفتے بھی جاری رہ سکتی ہے، آٹھ ہفتوں تک بھی چل سکتی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو اس سے زیادہ عرصے تک بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کی ٹائم لائن امریکا خود طے کرے گا اور تمام فیصلے میدان جنگ کی صورتحال اور امریکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: ایران سے مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے کیا جائے، برطانوی وزیراعظم
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے، جبکہ اس صورتحال کے عالمی توانائی منڈی اور خطے کی سکیورٹی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔







