جعفر آباد کے ڈیرہ اللہ یار میں ٹیسٹ کے انعقاد کے لیے تیاریاں مکمل کی گئیں، پنڈال میں آٹھ ہزار سے زائد کرسیاں لگائی گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ تقریب میں جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمان، ایم پی اے عبدالصمد بادینی سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

بنو قابل جعفر آباد کے شرکاء سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھے، ان کو تعلیم اور روزگار دے۔ ہم سب مل کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو پڑھایا جائے، ان کو آگے بڑھایا جائے۔

انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانو! اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تعلیم تجارت یا قابلِ فروخت چیز نہیں ہوتی، ہم تعلیم کی تحریک لے کر چل رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ میں آپ سے دو وعدے لینا چاہتا ہوں، ایک یہ کہ ہم حکومت پر یہ زور ڈالیں گے کہ ہر غریب کے بچے کو تعلیم کا حق ملنا چاہیے، تعلیم کا حق ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ارب پتی لوگوں کی تعلیم الگ ہوگی۔ پورے پاکستان میں تعلیم ایک جیسی اور ایک معیار کی ملنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پہاڑوں سے لے کر کراچی کے سمندر تک پورے پاکستان میں ایک معیار اور ایک تعلیم ہونی چاہیے۔ تعلیم کو مختلف طبقات میں تقسیم نہ کیا جائے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے آپ کو یہ موقع الخدمت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے فراہم کیا ہے، اگر آپ ٹیسٹ میں کامیاب ہوں گے تو ہم آپ کو آئی ٹی کے فری کورسز کروائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں حکامِ بالا سے کہتا ہوں کہ اگر بلوچستان کے لوگوں کے لیے کچھ کرو گے تو اس کے نوجوان پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، حکومت کے خلاف ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی باقی پارٹیوں کی طرح نہیں ہے کہ صرف زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگائے، ہم کسی برادری، کسی کی ذات یا کسی کے قبیلے کی بنیاد پر اس پارٹی کو لے کر نہیں چلتے، ہم خاندانوں کی سیاست کرنے والے  لوگ نہیں ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا آتا اور ہمارا حاکم بنتا چلا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی ایسے کسی سردراری یا جاگیرداری نظام کو قبول نہیں کرتی، جس میں آقا اور غلام کا رشتہ بنتا ہے۔ہم اپنے قبیلوں کا احترام کرتے ہیں اور اس کے بڑوں کا احترام کرتے ہیں۔اپنے بچوں کو باہر پڑھاتے ہو اور قوم کے بچوں کو تعلیم تک نہیں دی جاتی، ہمیں نہ تو ایسا سرداری نظام چاہیے اور نہ ہی ایسا جاگیرداری نظام چاہیے۔

مزید پڑھیں: بنو قابل راولپنڈی،  اگر جماعتِ اسلامی عوامی تعاون سے طلبا کو فری پڑھا سکتی ہے تو حکومتِ پاکستان کیوں نہیں 

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اگر کوئی ہمارے راستے میں رکاوٹ ڈالے گا تو ہم مزاحمت کریں گے اور مل کر ظلم کے اس نطام کو بدل دیں گے، ہمیں بہت بےوقوف بنالیا، اب تم لوگوں کو پرفارم کرنا پڑے گا، اگر ہمارا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں سہولتیں اور ہمارے بچوں کو روزگار مہیا کرو، اب لوگوں کو نسل در نسل غلام بناکر اقتدار میں آنے کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بغیر اختیار اور اقتدار کے قوم کی خدمت کررہی ہے، بلوچستان کے علاقوں کو صنعت و تجارت اور انڈسٹری سے محروم رکھا جارہا ہے، جماعت اسلامی اور الخدمت گھریلو دستکاریوں اور چھوٹی صنعتوں کے بلا سود قرضے دے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگ تقسیم کررہے ہیں اور ہم نوجوانوں کو متحد کررہے ہیں، نوجوانوں اور بلوچستان کے عوام کو 21تا 23نومبر کو لاہور میں ہونے والے اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، بلوچستان آگے بڑھے گا تو پاکستان بھی آگے بڑھے گا۔

واضح رہے کہ ’بنو قابل پروگرام‘ کے تحت ملک بھر میں اب تک 12 لاکھ سے زائد طلبہ انرول ہو چکے ہیں۔ نوجوانوں کی بھرپور دلچسپی کے باعث حافظ نعیم الرحمان نے پروگرام کا ہدف 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ملک بھر کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنیکل و ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔