خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق، تائی پے سے ویانا جانے والی ایوا ایئر کی پرواز نمبر 65 جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے تین بجے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئی۔ بلومبرگ نے یہ اطلاع پروازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے حوالے سے دی۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو تائیوان کی فضائی کمپنیوں کے اجازت ناموں کی تجدید کی، جو 27 مارچ تک مؤثر رہیں گے۔ یہ تفصیلات بلومبرگ کی جانب سے دیکھے گئے دستاویزات میں سامنے آئیں۔

تاہم بلومبرگ کے مطابق ایوا ایئر اور چائنا ایئرلائنز کی یورپ جانے والی دیگر پروازیں، جو بدھ کی رات گئے اور جمعرات کی صبح روانہ ہوئیں، پاکستانی فضائی حدود سے گریز کرتی رہیں۔ ان پروازوں نے روس کے اوپر سے گزرنے یا انڈیا کے راستے سفر کرنے کو ترجیح دی۔

پاکستان نے ہفتے کے اختتام پر تائیوان کی مسافر اور مال بردار پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ یہ اقدام بیجنگ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں اسلام آباد کے مؤقف سے منسلک تھا۔ پابندیوں کے باعث متعلقہ ایئرلائنز کو اپنے فضائی راستے تبدیل کرنا پڑے، جن میں روسی فضائی حدود سے گزرنے والے راستے بھی شامل تھے۔

پاکستان کا ون چائنا پالیسی پر مؤقف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس سے قبل بلومبرگ کو بتایا تھا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس نے صرف سرزمین چین کی ایئرلائنز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔

دوسری جانب، تائیوان کی وزارت خارجہ نے بدھ کو پاکستانی فضائی حدود تک رسائی پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد نے بیجنگ کا مؤقف اختیار کیا اور فضائی حدود تک رسائی کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔

تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے جمعرات کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے تائیوان کی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کے بعد دوبارہ کھول دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تائی پے کو شبہ ہے کہ اس اقدام کے پیچھے چین کا ہاتھ تھا۔

چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے، جب کہ تائیوان جزیرے پر چین کے حقِ خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان خودمختاری کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے اور اس معاملے پر مختلف ممالک کے سفارتی مؤقف بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

ایئرلائنز کا مؤقف

بلومبرگ کے مطابق ایوا ایئر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جب کہ چائنا ایئرلائنز نے خبر رساں ادارے کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

پاکستان کی جانب سے اجازت ناموں کی تجدید کے بعد تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی دوبارہ اجازت مل گئی ہے، تاہم دیگر پروازوں کے راستوں سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض طیارے اب بھی متبادل فضائی راستے اختیار کر رہے ہیں۔