ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہریوں اور کاروباری افراد کی رجسٹریشن کا عمل آن لائن پورٹل کے ذریعے جاری ہے، جس کے تحت اب تک 15 ایسوسی ایشنز اور 870 مینوفیکچررز کو باقاعدہ رجسٹر کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح پتنگ بازی سے متعلق سامان کی فروخت کے لیے 1413 سیلز پوائنٹس اور 258 تاجروں کی رجسٹریشن بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

انتظامیہ نے واضح طور پر ہدایات جاری کی ہیں کہ صرف سوتی دھاگے سے بنی ڈور استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ دھاتی، میٹل، کیمیکل یا دیگر مضر مواد سے تیار کردہ ڈور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پتنگ اور گڈے کے سائز بھی باقاعدہ طور پر مقرر کر دیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ڈیڑھ تاوا گڈا کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 40 انچ اور لمبائی 34 انچ ہوگی، اس سے بڑے سائز کے گڈے بنانے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح ساڑھے چار گڈھی پتنگ کے لیے چوڑائی 35 انچ اور لمبائی 30 انچ مقرر کی گئی ہے، جبکہ مقررہ حد سے بڑی پتنگ اڑانے پر پابندی ہوگی۔

مزید پڑھیں: بسنت فیسٹیول کے دوران راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر دو ہزار جرمانہ عائد کیا جائے گا، مریم نواز شریف

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 31 جنوری تک صرف پتنگ بازی کے سامان کی تیاری کی اجازت ہوگی، جبکہ یکم فروری سے 8 فروری کے دوران سامان کی ترسیل کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ضلع لاہور کی حدود سے باہر سے پتنگ بازی کا کوئی بھی سامان منگوانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے موٹرسائیکل سواروں کو قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈز نصب کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، خونی ڈور کے خطرات سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور فیلڈ میں سخت مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے اور بسنت کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں، موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت صرف انتظامیہ ہی نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور شہریوں سے بھی قانون پر عملدرآمد کی اپیل کی گئی ہے۔