فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے ترقی کے ویژن کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کرآگے بڑھ رہے ہیں، مختلف شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کرکے مکمل ڈیجیٹائزڈ کردیا گیا ہے، ڈیجیٹلائزیشن سے کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کو سیلاب، بادل پھٹنے جیسی قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے۔

وزیرِاعظم پاکستان نے کہا کہ قدرتی آفات کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے، بحالی کے عمل کے لیے ہمیں فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، مسلسل قرضوں سے ملکی معیشیت کمزور پڑتی ہے، قرضوں کی بجائے خودانحصاری پر توجہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کو صحیح سمت میں لے جانے کے لیے مختلف شعبوں میں برابری کا تعاون ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون سے آگے بڑھا جاسکتا ہے، پاکستان اے آئی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، 'پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدت، اعتماد اور دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں'

شہباز شریف نے کہا کہ اے آئی سے فوائد اٹھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں، زرعی شعبے میں جدت کے لیے اے آئی سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروا رہے ہیں۔ زرعی شعبے میں جدت کے لیے پاکستانی نوجوان چین سے تربیت حاصل کررہے ہیں۔