یہ تشویشناک انکشافات عالمی اداروں یونیسیف، ای سی پی اے ٹی اور انٹرپول کی جانب سے شائع کی گئی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

عالمی اداروں کی تحقیق کے مطابق آن لائن بدسلوکی کا شکار ہونے والے نصف سے زائد بچوں نے اس خوفناک واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا، جب کہ سروے میں شامل کسی ایک بچے نے بھی پولیس، ہیلپ لائن یا سماجی کارکنوں جیسے باضابطہ قانونی اور سرکاری ذرائع سے مدد حاصل نہیں کی۔

تحقیق کے سب سے تشویشناک پہلو کے مطابق 85 فیصد واقعات میں بچوں کو نشانہ بنانے والا شخص ان کا پہلے سے واقف کار تھا، جبکہ 44 فیصد واقعات میں مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس یعنی سوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا۔

اسی تشویشناک صورت حال کے تناظر میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی ایک خصوصی تحقیقی رپورٹ ’ہڈن ان پلین سائٹ‘ (Hidden in Plain Sight) بھی سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر جاری بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی ایک قومی نظام، مرکزی ڈیٹا بیس یا مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کا ڈھانچہ موجود نہیں۔

27 صفحات پر مشتمل ایچ آر سی پی کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 11 کروڑ 70 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔ انٹرنیٹ کی تیز رفتار رسائی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں بچوں کے لیے آن لائن ورغلانے، بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خطرات میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، صوبائی پولیس اور بچوں کے تحفظ کے دفاتر کے درمیان مؤثر رابطے اور تعاون نہ ہونے کے باعث بچوں کے خلاف انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کے بیشتر واقعات کو غلط قانونی دفعات کے تحت درج کردیا جاتا ہے، مثلاً انہیں صرف شناخت کی چوری یا عام ہراسانی کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق غلط قانونی درجہ بندی کے باعث جرائم کی اصل نوعیت، شدت اور سنگین نتائج قانون کی نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں مظفرگڑھ، کوٹ ادو کے علاقے اڈہ بہار میں پیش آنے والے ایک انتہائی سنگین واقعے کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جہاں ایک بین الاقوامی اور مقامی گروہ نے فائٹ کلب اور فٹنس سینٹر کے نام پر 50 سے زائد کمسن بچوں کو پھنسایا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان ان بچوں پر جسمانی تشدد اور استحصال کی ویڈیوز بنا کر انہیں لائیو اسٹریم کرتے اور ڈارک ویب پر بین الاقوامی خریداروں کو ڈیجیٹل کرنسی اور ڈالرز کے عوض فروخت کرتے رہے۔

اس واقعے نے واضح کیا کہ کس طرح دیہی علاقوں میں معلومات، آگاہی اور تفریحی سرگرمیوں کے مواقع کی کمی کا فائدہ اٹھا کر بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بچوں کے آن لائن استحصال کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے حوالے سے قانونی اور پارلیمانی بحث بھی شدت اختیار کرچکی ہے۔

اس سے قبل سینیٹ آف پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک پرائیویٹ ممبر بل ’سوشل میڈیا ایج ریسٹرکٹڈ یوزرز بل‘ بھی پیش کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک شہری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وزارت اطلاعات و نشریات اور وزارت داخلہ نے اپنے باضابطہ جوابات جمع کرائے ہیں۔

پی ٹی اے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ قوانین یا پیکا کے تحت اتھارٹی کے پاس 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے یا ان کی لازمی عمر کی تصدیق کا کوئی قانونی اختیار یا نظام موجود نہیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ بیشتر بین الاقوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انکرپٹڈ ہیں، جس کے باعث پورے پلیٹ فارم کو بند کیے بغیر مخصوص اکاؤنٹس یا مواد کو بلاک کرنا تکنیکی طور پر انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق اس نوعیت کی پابندیوں اور عمر کی تصدیق کے لیے ایک نیا اور مخصوص قانونی فریم ورک درکار ہوگا۔

حقوقِ اطفال کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور ماہرین نے بھی نشاندہی کی ہے کہ صرف سطحی پابندیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں بچے اپنی آن لائن سرگرمیوں اور مسائل کو مزید چھپانے لگ سکتے ہیں۔

تحقیقاتی اداروں کی تمام تر توجہ صرف آلات ضبط کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے تک محدود رہتی ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کی ذہنی و نفسیاتی بحالی، ان کی رازداری اور طویل مدتی تحفظ پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔

ان حالات کے پیش نظر ایچ آر سی پی اور عالمی ماہرین نے حکومت سے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کو قانون میں واضح طور پر جرم تسلیم کیا جائے، تمام متعلقہ اداروں اور پی ٹی اے کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مرکزی قومی نظام قائم کیا جائے، جب کہ جدید لائیو اسٹریمنگ اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کی روک تھام کے لیے قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی جائیں۔