میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ پاکستانی فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات نئے نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون بھی طویل عرصے سے جاری ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف ڈومینز سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے امریکی نشریاتی ادارے العربیہ انگلش کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مکہ دفاعی اتحاد کی کوئی علاقائی توسیع یا جارحانہ خواہش نہیں اور اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاع اور مزاحمت ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود طویل المدتی اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ بناتا ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی واضح کیا ہے کہ مکہ اتحاد کو عملی شکل دینے کے بعض معاملات آپریشنل ضرورت اور رازداری سے متعلق ہیں، اس لیے ان کی تفصیلات عوامی سطح پر بیان نہیں کی جاسکتیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ بھی واضح کرچکی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون 1970 کی دہائی سے جاری ہے، جب کہ 2025 میں اس تعاون کو اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کے ذریعے مزید باضابطہ شکل دی گئی۔
وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی بعض تعیناتیوں کو آپریشنل معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا تھا۔
خیال رہے کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا۔ پاکستان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، اجتماعی مزاحمت اور علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان نے اسے دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
پاکستانی حکام نے مکہ معاہدے کے تحت فوجی تعیناتیوں کی تعداد، مقامات اور مخصوص آپریشنل ذمہ داریوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ بھی کہہ چکی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے بعض معاملات آپریشنل نوعیت کے ہیں اور ان پر مزید تفصیل دینا مناسب نہیں۔







