غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزارتِ دفاع نے معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان اب تک کا سب سے بڑا دفاعی برآمدی معاہدہ قرار دیا ہے، جب کہ اسے اسرائیل کی تاریخ کے بڑے دفاعی معاہدوں میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق ’اکیلیز شیلڈ‘ (Achilles Shield) کے نام سے ہونے والے اس معاہدے کے تحت یونان کو مختلف اقسام کے فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کے جدید آلات فراہم کیے جائیں گے۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل عامر بارام نے کہا کہ ’اکیلیز شیلڈ‘ معاہدہ اسرائیل کی تکنیکی برتری اور میدانِ جنگ میں اس کے دفاعی نظام کے ثابت شدہ ٹریک ریکارڈ کی عکاسی کرتا ہے۔
معاہدے کے تحت اسرائیل، یونان کو رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے تیار کردہ ’ڈیوڈز سلنگ‘ اور ’اسپائیڈر‘ فضائی دفاعی نظام فراہم کرے گا، جب کہ اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کا تیار کردہ ’بارک ایم ایکس‘ ایئر ڈیفنس سسٹم بھی یونان کے دفاعی نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔
اس کے علاوہ فضائی نگرانی کے لیے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کے ذیلی ادارے ایلٹا سسٹمز کے تیار کردہ ’ایم ایم آر‘ ملٹی مشن ریڈارز بھی فراہم کیے جائیں گے۔
ڈیوڈز سلنگ اسرائیل کے اہم فضائی دفاعی نظاموں میں شامل ہے، جسے اسرائیل نے رواں سال ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ فن لینڈ کے بعد یونان اس نظام کا دوسرا خریدار بن گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونان اپنے مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 3.5 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، جو پڑوسی ملک ترکیے کے ساتھ جاری تنازعات کے باعث نیٹو کے کئی دیگر اتحادی ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
یونان نے 2036 تک اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک ’اکیلیز شیلڈ‘ کے نام سے ملٹی لیئر اینٹی بیلسٹک، اینٹی ایئر کرافٹ اور اینٹی ڈرون دفاعی نظام تیار کرے گا۔
یونان کا منصوبہ ہے کہ وہ امریکا سے 40 تک ایف-35 لڑاکا طیارے حاصل کرے، جبکہ فرانس اور اٹلی سے جنگی بحری جہاز بھی خریدے گا۔ مجموعی طور پر یونان ان دفاعی منصوبوں پر تقریباً 28 ارب یورو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت یونان کو اپنی مختلف فضائی دفاعی صلاحیتوں کو ایک مربوط نظام میں شامل کرنے کے لیے رافیل کا تیار کردہ نیا نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی فراہم کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ 26 ملین یورو کے ایک اضافی معاہدے کے تحت اسرائیل یونان کو ’ڈرون ڈوم‘ سسٹمز بھی فراہم کرے گا۔ یہ نظام اہم اور اسٹریٹجک مقامات کو ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے اور موجودہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
معاہدے میں صرف دفاعی نظام کی فراہمی ہی شامل نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ اس تعاون کے تحت یونان کی مقامی دفاعی صنعت کو اسرائیلی ٹیکنالوجی، مہارت اور دیگر تکنیکی صلاحیتوں کی منتقلی بھی شامل ہوگی۔
دفاعی معاہدے کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب یونان خطے میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترکیے کے ساتھ اس کے دیرینہ علاقائی اور دفاعی اختلافات بھی برقرار ہیں۔







