نجی نشریاتی ادارے  جیوکےمطابق   پرویز رشید نے کہا کہ صرف دو ججز نے استعفیٰ دیا اور ان کا موقف ہے کہ آئین کو نقصان پہنچا ہے اور سپریم کورٹ کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، تاہم دیگر ججز نے اپنے فرائض جاری رکھنے کو مناسب سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نہ آئین کو نقصان پہنچا اور نہ سپریم کورٹ کو تقسیم کیا گیا۔

انہوں نے  کہا کہ آئین میں ترمیم کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور یہ آئینی حق ہر حکومت کا ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دو ججز یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف وہ مقدمات سنیں گے جن میں سرکاری اہلکار یا منتخب نمائندے ہوں اور انہیں رسوا کریں یا جیل بھیجیں؟ ججوں کا اصل فریضہ اعلیٰ عدالت میں بیٹھ کر ہر شہری کو انصاف دینا ہے۔

مزیدپڑھیں:27 ویں آئینی ترمیم ایک ایسی حکومت نے پیش کی اور جسے ایسی سپریم کورٹ کی قیادت نے قبول کیا جن کی اپنی آئینی حیثیت کٹہرے میں کھڑی تھی، جسٹس منصور علی شاہ


انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہوئی، پی ٹی آئی کے کسی رکن نے بھی اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا جبکہ سینیٹ میں 64 اراکین نے کھڑے ہو کر ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کل ترمیم ہوئی، اس میں صرف تین ارکان نے اختلاف کیا جو جے یو آئی کے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججوں کا کام ٹکر بنوانا یا عوامی رسوائی نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی ہے، یہی عدلیہ کا اصل مقصد ہے۔