ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ عوام نے بارہا آزمائے ہوئے چہروں کو مسترد کیا ہے، لیکن آج بھی عوام جماعتِ اسلامی پر اعتماد کرتی ہے۔ جماعت کے کارکنان نے ہمیشہ دل کھول کر عوامی خدمت کی اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کا دامن کرپشن سے پاک ہے اور 22، 23 نومبر کو ہونے والا اجتماعِ عام تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوگا۔
حمیرا طارق نے کہا کہ امیرِ جماعت اسلامی نے ملک میں مہنگی بجلی کے خلاف آواز بلند کی اور آئی پی پیز کے خلاف اقدامات کر کے سستی بجلی کی فراہمی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بدل دو نظام مہم کا مقصد محض تقاریر نہیں بلکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہے۔
مزید پڑھیں: بنو قابل سوات، پاکستان کو آئینی نہیں، تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے ، حافظ نعیم
خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ خواتین پر ہونے والے مظالم اور غیرت کے نام پر قتل ہیں۔ سال 2025 میں سب سے زیادہ خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، جو معاشرتی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام کسی بھی صورت میں عورت کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ ماں کے لیے بچوں کو بھوکا دیکھنا ناقابلِ برداشت ہوتا ہے، اسی لیے اجتماعِ عام میں معیشت، تعلیم اور معاشرتی اصلاح پر تفصیلی سیشنز رکھے گئے ہیں۔ 22 نومبر کو سہ پہر 3 بجے سے 5 بجے تک خواتین کا خصوصی سیشن منعقد ہوگا، جس میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی خواتین کو ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے ملک بھر کی خواتین کو اجتماعِ عام میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جماعتِ اسلامی ویمن ونگ فیلڈ میں سرگرم عمل ہے اور صحت، تعلیم، یوتھ اور دیگر شعبوں میں قیادت فراہم کر رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے “یوتھ ارینا” اور بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیاں بھی رکھی گئی ہیں تاکہ مائیں اپنے سیشنز میں بھرپور شرکت کر سکیں۔







