لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ 2024 کا ہائبرڈ نظام ناکام ہوچکا ہے اور اپوزیشن جماعتوں میں بھی یکسوئی پیدا نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان جل رہا ہے اور عوام کربناک صورت حال سے دوچار ہیں، جبکہ وزیراعظم بلوچستان میں قومی کانفرنس بلانے میں ناکام ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی عوام کے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جا رہا اور وہاں 100 دن سے احتجاج جاری ہے۔ ان کے مطابق 26ویں اور 27ویں ترمیم کا عذاب عوام پر مسلط کیا گیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے عوامی مسائل، زراعت اور صنعت سمیت مختلف اہم ایشوز کو اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف احتجاج ہوا اور اس حوالے سے کمیٹیاں بھی بنائی گئیں۔ جماعت اسلامی کے مطالبے پر بتایا گیا ہے کہ 10 آئی پی پیز کو ختم جبکہ 21 کو آخری مرحلے تک پہنچا دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کے مطابق چین کی آئی پی پیز سے بات چیت بھی جاری ہے اور ایک سال میں قومی معیشت آئی پی پیز کے چنگل سے نجات حاصل کرلے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھرنے کے آغاز سے قبل جماعت اسلامی سے رابطہ کیا تھا، تاہم جماعت اسلامی اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

پیٹرول لیوی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا موقف 25 کروڑ عوام تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق لیوی ٹیکس آئین سے متجاوز ہے اور اس معاملے میں صوبوں کو بائی پاس کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے وفاقی حکومت کو 6 تجاویز دی ہیں، جن میں پالیسی ریٹ کو 9 فیصد تک لانا اور آئل ریفائنریوں کے ناجائز منافع کو بند کرنا شامل ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومتیں غیر ترقیاتی اخراجات میں اسراف کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے بھی تسلیم کیا کہ پیٹرول پر عارضی ریلیف دینا درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے جماعت اسلامی سے تین مرتبہ رابطہ کیا گیا ہے، تاہم جماعت اسلامی کا بنیادی مسئلہ عوام کو ریلیف دینا ہے۔

اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد نہ سومنات ہے اور نہ حکمرانوں کے باپ کی جاگیر ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں پُرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کو پُرامن رکھنا سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اور جماعت اسلامی اپنے پُرامن احتجاج کی ضمانت دیتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بے بنیاد گرفتاریوں کی بھی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج میں تصادم کرانے کی مبینہ سازش کو ناکام بنایا ہے۔