پاکستان میں 2002 کے علاوہ کبھی مقامی سطح پر بااختیار بلدیاتی حکومتیں تشکیل نہیں دی جا سکیں۔ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے مگر الیکشنز پر سیاسی جماعتوں کا اثرورسوخ زیادہ نظر آیا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ہر صوبائی حکومت اپنی مرضی کا بلدیاتی سیٹ اپ بنانے کے لیے قانون سازی کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن رولز کے مطابق ہر صوبے میں آخری منظور شدہ قانون کے مطابق بلدیاتی انتخاب منعقد کیا جاتا ہے۔‘
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں آخری منظور شدہ قانون 2022 کے تحت دسمبر میں الیکشن کروانے کا حکم ضرور دیا ہے لیکن الیکشن شیڈول جاری ہونے سے قبل ہی صوبائی حکومت نے لوکل باڈیز ایکٹ 2025 اسمبلی سے منطور کروا لیا ہے۔ اس لیے اب اس نئے قانون کے تحت ہی بلدیاتی الیکشنز ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے رواں سال چار مرتبہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود بلدیاتی الیکشن کی تیاری سے گریز کیا۔ حتیٰ کہ بلدیاتی قانون تک اسمبلی سے منظور نہیں کروایا، جس کے بعد رواں ماہ الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ بلدیاتی انتخابات دسمبر کے آخری ہفتے میں بلدیاتی قانون 2022 کے تحت ہوں گے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی مخالفت اور احتجاج کے باوجود قائم مقام سپیکرنے بلدیاتی ایکٹ 2025 کے مسودے کی منظوری دے دی۔
اسمبلی کے اندر حکومت کو جہاں مخالفت اور مشکلات کا سامنا ہے، سڑکوں پر بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، جماعت اسلامی نے 7 دسمبر یعنی ہفتہ کو پنجاب بھر میں مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیا قانون کہنے کو تو نیا ہے مگر اس میں بہت ساری چیزیں پرانی ہیں۔ اس قانون میں نئے اختیارات شامل کیے گئے ہیں جن میں ہر ضلع میں اقتصادی ترقی کی حکمت عملی مقامی سطح پر تیار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اس کے تحت کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (سی بی اوز) کو غیر منافع بخش ادارہ قرار دے دیا گیا۔ سی بی اوز کے اثاثے صرف ادارے کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے اور ممبران میں منافع یا بونس تقسیم نہیں ہو گا۔
ضلعی حکومتوں کو تمام پبلک مقامات پر پبلک ٹائلٹ لازمی تعمیر کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ مقامی سطح پر تشکیل دیے گئے کمیشن کو غیر منصفانہ مقامی ٹیکسز کی سماعت اور فیصلے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔
اگر صوبائی حکومت کا کوئی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو تو مقامی حکومت خود اس کی تکمیل سنبھالنے کا اختیار رکھے گی۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی مقامی حکومت کی ذمہ داری ہو گی اور نجی پانی کے ذرائع پر کنٹرول اور اجازت لازمی ہو گی۔
مقامی حکومتوں کے تشکیل دیے گئے منصوبوں میں 20 فیصد فنڈز لوکل جبکہ 80 فیصد صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ بلدیاتی قانون میں یونین کونسلیں اور ضلعی حکومتیں بحال کر دی جائیں گی۔
اس بلدیاتی قانون کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ غیرجماعتی بنیادوں پر انتخاب ہے، یہ انتخاب ایسے ہی ہے جیسے سابق صدرجنرل پرویز مشرف نے اپنے دور آمریت میں کروایا تھا۔ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔
جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کیلئے اپنی مرضی کے مطابق نظام بنانے کیلئے مجوزہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ تشکیل دیا ہے جس کسی صورت قبول نہیں کیاجاسکتا۔ اس کے خلاف عدلیہ سے رجوع کریںگے۔
جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسرمحبوب الزماں بٹ نے کہاہے کہ پنجاب حکومت آزادانہ بلدیاتی الیکشن اور منتخب نمائندوں کو بااختیار بنانے کیلئے مجوزہ بلدیاتی ایکٹ میں اصلاحات کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے۔ بااختیار بلدیاتی نظام ہی شہریوں کے مسائل کا واحد حل ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق ملک کی ہر صوبائی حکومت کو مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لانے کا پابند کیا گیا ہے، جنہیں سیاسی، انتظامی اور مالیاتی خود مختاری حاصل ہوگی۔
سیاسی جماعتوں کی مخالفت سے نئے بلدیاتی قانون میں تبدیلی کی جاتی ہے یا نہیں؟ مگراحتجاج کے باعث بلدیاتی الیکشنز میں مزید تاخیر ہونے کا اندیشہ ضرور ہے۔







