یہ ایک طریقہ واردات ہے جو ہر بے باک لکھاری، مقرر، اینکر اور صحافی کے خلاف اپنایا جاتا ہے، میں کیسے بھول سکتا ہوں جو اس کا عینی شاہد ہوں۔
اب ذرا اس ایف آئی آر کی زبان ملاحظہ ہو۔ بلال غوری نے مبینہ طور پر 'غلط بیانیہ گھڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی' اور 'ریاستی اداروں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی'۔ ہم نے یہ عبارت تین بار پڑھی اس امید پر کہ کہیں کوئی جھوٹا اعداد و شمار، کوئی من گھڑت واقعہ، کوئی جعلی دستاویز مل جائے۔ نہیں ملی۔ الزام دراصل یہ تھا کہ موصوف نے نیکٹا کے نئے کوآرڈینیٹر کی تعیناتی پر ایک ویلاگ بنا ڈالا۔
عدالت میں تفتیشی ایجنسی نے دس روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، اس دلیل پر کہ ملزم کے لیپ ٹاپ اور موبائل سے 'یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹ کی ریکوری' کرنی ہے۔ گویا اکاؤنٹ کوئی گمشدہ زیور ہو جو تلاشی میں برآمد کیا جائے گا۔ عدالت نے مہربانی کرتے ہوئے صرف تین دن کا ریمانڈ دیا، شاید اس خیال سے کہ ایک اکاؤنٹ کی بازیابی کے لیے دس دن کچھ زیادہ ہی سخاوت ہوگی۔
اصل منظر مگر عدالت کے کمرے میں اس وقت جما جب جج صاحب نے پوچھا کہ آخر ویلاگ میں کہا کیا گیا تھا۔ بلال غوری نے جواب دیا کہ انہوں نے بس اتنا کہا تھا کہ 'جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہی ہوگا'۔ جج صاحب نے بذلہ سنجی سے استفسار کیا کہ کیا کل کو وہ یہی بات ان کے بارے میں بھی کہیں گے، کہ جو سیشن جج کہے گا وہی ہوگا؟ صحافی نے نہا یت سادگی سے جواب دیا۔
'عدلیہ تو آزاد ہے، لیکن وہاں چین آف کمانڈ ہے۔' اس ایک جملے میں ہمارے پورے نظام کا نچوڑ آ گیا۔ عدلیہ آزاد ہے، مگر باقی ہر جگہ ایک کمانڈ ہے جس کی زنجیر اوپر سے نیچے تک جاتی ہے، اور جو اسے للکارے اسے رات دو بجے کا 'لاپتہ فرد' بنا دیا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اہلیہ نے پولیس پر الزام لگایا کہ ان کی ایف آئی آر نہیں لکھی گئی، مگر جس ادارے کو ملزم تک پہنچنا تھا اس نے اسی رات، بغیر کسی تاخیر کے، پورا مقدمہ درج کر کے گرفتاری بھی مکمل کر لی۔ گویا ریاست کی مشینری بعض معاملات میں ایسی مستعد ہو جاتی ہے کہ رات کے اندھیرے میں بھی چند گھنٹوں میں ایف آئی آر لکھ کر تفتیش کا آغاز کر ڈالتی ہے، اور بعض معاملات میں وہی مشینری برسوں سے فائلوں میں سستاتی رہتی ہے۔
وکیل صفائی نے عدالت میں پوچھا کہ آخر ویلاگ میں کون سا جملہ جھوٹ پر مبنی تھا، اس کی نشاندہی کر دی جائے۔ اس سوال کا جواب ابھی تک نہیں آیا، اور غالباً آنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جا رہی کیونکہ اصل مسئلہ کبھی حقیقت اور جھوٹ کا نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کسی کی 'مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی' کے فقرے پر کسی کا دل دکھ گیا۔
بہرحال، اس پوری کہانی کا نچوڑ یہ ہے کہ ہمارے ہاں صحافی اب دو طرح غائب ہوتے ہیں: یا تو اٹھا لیے جاتے ہیں اور مہینوں بعد لوٹتے ہیں، یا رات دو بجے 'لاپتہ' ہو کر صبح باقاعدہ مقدمے، ایف آئی آر نمبر اور عدالتی ریمارکس کے ساتھ 'ملزم' کی صورت میں دوبارہ نمودار ہو جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دوسری صورت میں کم از کم کاغذی ریکارڈ مل جاتا ہے اور ہمارے ہاں کاغذی ریکارڈ کا ملنا بذات خود ایک بڑی نعمت سمجھا جاتا ہے۔
بلال غوری سے پرانا تعلق ہے، جب کالج میں تھا تو پہلی ملاقات میاں چنوں میں ہوئی، پھر یہ ملاقات ملاقاتوں میں بدلی، کالم سے شناسائی بڑھی اور پھر ان کی ایڈیٹر شپ میں میری پہلی ملازمت ہوئی، روز گار کے چکر میں رستے بدلتے گئے، ایک ادارے سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا۔ ان کو سرکاری ادارے بار بار تنگ کرتے رہتے ہیں جب کچھ ثابت نہیں ہوتا تو خود ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ بلال غوری کے ’لاپتہ‘ ہونے کی خبر دینے والے ہمارے مشترکہ دوست رانا تحمل علی خان کو میں نے تسلی دی کہ گھبرائیے مت، بلال غوری اپنا کام کررہے تھے وہ اپنا کام کررہے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ بلال کی ‘اذاں‘ بہت طاقتور ہے۔ یہ قید خانے ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







