پاکستان میٹرز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جاوید ہاشمی نے اپنی سیاسی زندگی، فوجی آمریتوں کے خلاف جدوجہد، جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں شمولیت، مسلم لیگ ن سے طویل سیاسی رفاقت، نواز شریف سے اختلافات، جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی سمیت عمران خان اور موجودہ ملکی سیاست پر تفصیلی گفتگو کی۔
اپنے بارے میں ’باغی‘ اور ’کنفیوزڈ سیاست دان‘ کہے جانے سے متعلق جاوید ہاشمی نے کہا کہ خود کو کنفیوزڈ سیاست دان نہیں سمجھتا۔ عمر 79 برس سے زیادہ ہوچکی ہے اور اگر کوئی شخص اتنی طویل سیاسی زندگی کے باوجود اپنے بنیادی مؤقف پر قائم رہے تو اسے کنفیوژن کا شکار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کے تقاضے وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن اصول تبدیل نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر انہیں دوبارہ زندگی گزارنے کا موقع ملے تو وہ اپنی سیاسی زندگی کا بنیادی راستہ تبدیل نہیں کریں گے۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کی پوری زندگی اقتدار کے گرد نہیں گھومی، وہ کئی مرتبہ وزیر رہے لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ حکومت یا پارٹی کی پالیسی ان کے اصولوں سے متصادم ہے تو انہوں نے عہدہ رکھنے کے بجائے استعفیٰ دینے کو ترجیح دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے حلقے کے لوگوں نے کئی مرتبہ سوال کیا کہ وہ ووٹ دے کر اسمبلی بھیجتے ہیں اور پھر وہ استعفیٰ دے دیتے ہیں، عوام نے انہیں صرف عہدہ حاصل کرنے کے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ اس لیے منتخب کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں آئین، اپنے ضمیر اور عوام کے مفاد کے مطابق بات کریں۔
جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں شمولیت کو جاوید ہاشمی نے اپنی سیاسی زندگی کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جنرل ضیا کی کابینہ میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا اور وہ اس فیصلے پر قوم سے معذرت بھی کرچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً 9 ماہ تک جنرل ضیا کی حکومت میں رہے، تاہم اگر مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہوتا تو کابینہ میں موجود رہ سکتے تھے۔ انہوں نے جلد ہی استعفیٰ دے دیا اور آمریت کے خلاف اپنی آواز بھی بلند کرتے رہے۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور میں ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں بھی ہوئیں، تاہم وہ اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے کہ ملک میں جمہوری نظام ہونا چاہیے۔
اپنے سیاسی سفر کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ طالب علمی کے زمانے میں ان کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے قائم ہوا اور اسی دور میں طلبہ سیاست میں عملی حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے اپنی فکری وابستگی کا بھی ذکر کیا۔
جماعت اسلامی کی فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات، آگ لگنے کے واقعات اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے دوران جماعت اسلامی کے کارکن نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں، تاہم سیاسی حکمت عملی کے معاملے میں وہ جماعت اسلامی سے اتفاق نہیں کرتے۔
مسلم لیگ ن سے اپنی طویل سیاسی وابستگی کے بارے میں جاوید ہاشمی نے بتایا کہ 1980 کی دہائی کے آخر میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ملک کی بڑی سیاسی قوتیں تھیں اور اسی ماحول میں انہوں نے مسلم لیگ کا انتخاب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ 1988 کے انتخابات میں وہ نواز شریف کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوسکے، تاہم بعد کے برسوں میں نواز شریف کے ساتھ طویل سیاسی رفاقت قائم ہوئی اور وہ مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے رہے۔
جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پارٹی قیادت کے ہر فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور بعض اہم آئینی و سیاسی معاملات میں پارٹی قیادت کی خواہش کے برخلاف اپنا مؤقف اختیار کیا۔ بعض مواقع پر انہوں نے نواز شریف حکومت کے اہم آئینی اقدامات کی حمایت میں ووٹ دینے سے بھی انکار کیا۔
چارٹر آف ڈیموکریسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کو صرف نواز شریف کے کسی ایک فیصلے کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں، اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان پیدا ہونے والے حالات سمیت کئی عوامل نے سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا۔
نواز شریف کی وطن واپسی اور شیخ رشید کے خلاف انتخاب لڑنے کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے بتایا کہ انہیں شیخ رشید کے مقابلے میں میدان میں اتارا گیا۔ نواز شریف نے ان کے حلقے میں انتخابی مہم نہیں چلائی، اس کے باوجود انہوں نے اپنے حلقے کے ووٹرز کی حمایت سے شیخ رشید کو شکست دی۔
پاکستان کی سیاست کے دلچسپ کردار کے سوال پر جاوید ہاشمی نے شیخ رشید کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ محدود وسائل سے سیاست میں آئے، طویل سیاسی جدوجہد کی اور مختلف ادوار میں کئی جماعتوں اور رہنماؤں کے ساتھ ان کے تعلقات رہے۔
نواز شریف اور شہباز شریف میں سے بہتر وزیر اعظم کے سوال پر جاوید ہاشمی نے دونوں کو سیاست دان ماننے سے ہی انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ شہباز شریف سیاست دان ہیں اور نہ نواز شریف، کیونکہ کسی شخص کا طویل عرصے تک اقتدار میں رہنا اسے لازماً بڑا سیاست دان نہیں بناتا۔
نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر وہ حقیقی معنوں میں سیاست دان ہوتے تو مشکل وقت میں پاکستان سے باہر جانے کے بجائے ملک میں رہ کر سیاسی حالات کا مقابلہ کرتے۔
ان کے مطابق سیاسی قیادت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حالات سازگار نہ ہوں۔ سیاست دان کو مشکل وقت میں اپنے کارکنوں اور عوام کے درمیان موجود رہنا چاہیے اور اقتدار یا تحفظ کی خاطر ملک سے باہر نہیں جانا چاہیے۔
عمران خان کے ساتھ اپنے سیاسی تعلق کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو اور قائداعظم محمد علی جناح کی مقبولیت کو ایک ہی پیمانے پر نہیں پرکھا جاسکتا۔
ان کے مطابق قائداعظم ایک تاریخی شخصیت تھے جن کا تقابل موجودہ دور کے سیاست دانوں سے نہیں کیا جاسکتا، جب کہ عمران خان بھی پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی عوامی قوت کے طور پر سامنے آئے۔
جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کے نزدیک سیاست کا مطلب صرف حکومت حاصل کرنا یا اقتدار میں رہنا نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر اپنے مؤقف کے لیے کھڑا ہونا بھی ہے۔ سیاسی جماعت یا حکومت سے اختلاف کرنا جمہوری سیاست کا حصہ ہے اور سیاست دان کو اپنے ضمیر کے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
اپنی تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی کے بارے میں جاوید ہاشمی نے کہا کہ ان کے سفر میں کئی فیصلے ایسے ہیں جنہیں وہ آج مختلف انداز سے دیکھتے ہیں، تاہم جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں شمولیت کو وہ واضح طور پر اپنی غلطی قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے جب کہ سیاسی اصول اور عوام کے سامنے جواب دہی زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں متعدد مرتبہ عہدے اور اقتدار کو چھوڑا لیکن اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو ترجیح نہیں دی۔







