مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین کے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “جو کام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگ کے ذریعے نہ کر سکا، وہ اب امن بورڈ کے نام پر شروع کیا جا رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اتفاقِ رائے کے بغیر اس بورڈ کا حصہ بنا دیا گیا، جبکہ تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ امن بورڈ کے نکات، شرائط اور مقاصد کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ جیسے حساس معاملے پر کسی بھی عالمی فورم میں شمولیت سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، خدشہ ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی حکومت پر شدید تنقید کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف اسرائیلی جارحیت کو تقویت دے رہے ہیں بلکہ حماس کو کھلی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ “ہم ایک ایسے فورم میں شامل ہو رہے ہیں جس کی بنیاد ہی دھمکیوں اور دباؤ پر رکھی گئی ہے، ایسے میں اسے امن کا بورڈ قرار دینا سوالیہ نشان ہے۔”

مزید پڑھیں: کینیڈین وزیرِ اعظم کا ٹرمپ کو دوٹوک جواب,  کینیڈا امریکا کی بدولت زندہ نہیں 

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے فیصلے پر وزیراعظم نے نہ تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی کابینہ سے باقاعدہ منظوری حاصل کی گئی، جو آئینی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

دوسری جانب حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا مقصد فلسطینی عوام کے لیے آواز بلند کرنا اور انسانی امداد و بحالی کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق پاکستان کسی بھی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو فلسطینیوں کے مفادات کے خلاف ہو۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی بھی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ غزہ امن بورڈ کی تمام تفصیلات، شرائط اور معاہدوں کو فوری طور پر پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے تاکہ قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق غزہ امن بورڈ پر جاری یہ بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف خارجہ پالیسی بلکہ پاکستان کے اصولی مؤقف اور عوامی جذبات سے بھی جڑا ہوا ہے۔