پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت اشارے ملے ہیں،امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیم پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہے، جو ممکنہ بات چیت کے دوسرے دور کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
اس اہم پیش رفت سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہاسحاق ڈار اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات اور جاری سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے اس موقع پر پائیدار امن اور استحکام کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کاوشیں جاری رکھے گا اور ہر ممکن مثبت کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے تعمیری اور مثبت سہولت کاری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے اور پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں چاہتا، ایران کا معاملہ بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہو جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلے دور کی بات چیت کے بعد اب دوسرے مرحلے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنا ایک اہم سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے، کیونکہ ماضی میں بھی پاکستان مختلف بین الاقوامی تنازعات میں مصالحتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔







