ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ حالیہ چار ملکی مشاورت میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں جنگ کے جلد اور پائیدار خاتمے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاری تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق ان نازک حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے شریک ممالک کے وفود کو ممکنہ امریکا اور ایران مذاکرات سے متعلق آگاہ کیا، اور اسلام آباد کو ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور لانے کی تجویز کو بھی حمایت حاصل ہوئی۔
🔴LIVE: Spokesperson s Weekly Press Briefing 02-04-2026 at Ministry of Foreign Affairs, Islamabad https://t.co/2CIL4Nphhm
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 2, 2026
انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرات کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام پر بھی اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: ایران نے امریکی صدر کو ’جھوٹا‘ قرار دے دیا: ’جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔‘
انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین اہم پیش رفت ثابت ہوا، جو وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا۔ اس دوران دونوں ممالک نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے مشترکہ پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔
اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے، متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، جلد امن مذاکرات کے آغاز اور ممالک کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔
ان کے مطابق پانچ نکاتی منصوبے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی کلیدی اہمیت دی گئی ہے، جہاں تجارتی سرگرمیوں اور جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے کیے ہیں۔ 27 مارچ کو کویت کی قیادت نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جبکہ 28 مارچ کو وزیراعظم نے مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اسی طرح 31 مارچ کو انتونیو کوسٹا سے بھی رابطہ ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان-یورپی یونین تعلقات پر گفتگو کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے ترکیہ، قطر، انڈونیشیا اور ایران سمیت مختلف ممالک سے مسلسل رابطے کیے ہیں تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔







