وزیراعظم ہاؤس میں وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے امور سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کو اپنی چھت کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اجلاس میں کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں، نجی شعبے کی شمولیت اور شہری سہولیات کی بہتری کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ہاؤس فنانس کی سہولیات کو عام شہری کی پہنچ میں لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ کم اور متوسط آمدنی والے افراد بھی آسان شرائط پر گھر حاصل کر سکیں۔

اجلاس کو وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے اسٹریٹجک روڈ میپ پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تعمیرات کے شعبے میں ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ٹیکس اسٹینڈرڈائزیشن پر کام کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ہاؤس مورٹگیج اصلاحات کے مسودے پر مختلف اداروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے، جس کا مقصد گھروں کی خریداری کے لیے مالی سہولیات کو آسان اور مؤثر بنانا ہے۔

مزید بریفنگ میں بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لیے بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ منصوبے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کو منظم کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر بھی کام جاری ہے، جس سے شفافیت اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید پرھیں: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کا سعودی عرب کا 2 روزہ دورہ، خطے کی سلامتی پر اجلاس میں شرکت

اجلاس میں ہاؤس فنانس کے فروغ کے لیے رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کے قیام اور اس کے طریقہ کار پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ، ایف بی آر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور صوبائی ہاؤسنگ محکموں کے درمیان تعاون جاری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف گھروں کی تعمیر نہیں بلکہ ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جس کے تحت ہر شہری کو باوقار اور معیاری رہائش میسر آ سکے، متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض پیرزادہ، شزا فاطمہ، رانا ثنا اللہ، بلال اظہر کیانی سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

واضع رہے کہ  اگر ہاؤسنگ اور فنانس کے شعبوں میں مجوزہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ کی گئیں تو نہ صرف لاکھوں افراد کو رہائش کی سہولت میسر آ سکے گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔