عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ اسلامی شریعت کے مطابق مسلمان مرد اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتا ہے، اس لیے اس نوعیت کی شادی اصولی طور پر درست ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کم عمری میں شادی کرنے پر فوجداری کارروائی اور سزا دی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ قانون میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے صرف سزا کا ذکر ہے، نکاح کو ختم کرنے یا کالعدم قرار دینے کی کوئی واضح شق موجود نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ متعلقہ لڑکی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا، جس کا باضابطہ اعلان (ڈیکلریشن) بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔
عدالت کے مطابق حبسِ بے جا کی درخواست کے دائرہ کار میں لڑکی کی عمر یا دارالافتاء کی دستاویزات کی تصدیق کا تفصیلی جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔
فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ لڑکی کے والد کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔ ایف آئی آر میں بچی کی عمر 13 سے 14 سال بتائی گئی، جب کہ دلائل کے دوران یہی عمر 12 سال 9 ماہ بیان کی گئی، جس سے مقدمے کی بنیاد کمزور ہوئی۔
مزید پڑھیں: سرکاری عیاشی ختم کریں، عوام کو ریلیف دیں: حافظ نعیم الرحمان
عدالت نے کہا کہ پیش کی گئی دستاویزات بھی شک سے بالاتر نہیں تھیں، جب کہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر واضح بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اور بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا۔
عدالت کے مطابق ان تمام شواہد کی روشنی میں نکاح کو برقرار رکھا جاتا ہے، البتہ کم عمری کی شادی کے حوالے سے متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔







